Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
114 - 410
تھی۔ اس نے آتے ہی کہا:'' اے شیخ! کیا تم نے ایک سانپ دیکھا ہے ،مجھے گمان ہے کہ شاید تم نے اسے اپنی چادر میں چھپارکھا ہے ؟'' حضرت سیدنا حمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:'' میں نے کسی سانپ کو نہیں دیکھا ۔''نوجوان یہ بات سن کر وہاں سے چلاگیا ۔ اس نوجوان کے جاتے ہی سانپ نے اپنا منہ نکالااور پوچھا:''کیامیرا دشمن جاچکا؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا: ''ہاں! وہ جا چکا ، اب تو بھی میرے جسم سے باہر آجا تا کہ مجھے تکلیف نہ ہو۔'' تو وہ مکار سانپ کہنے لگا :''اب تو میں تیرے جسم سے باہر نہیں آؤں گا، اب تیرے لئے دو راستے ہیں یا تو میں تجھے زہر سے ہلاک کردو ں گا یا تیرے دل میں سوراخ کردوں گا۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے کہا :'' تو مجھے کس دشمنی کی وجہ سے سزا دینا چاہتا ہے؟'' سانپ نے کہا:'' تُوبہت احمق ہے کہ تو نے مجھے نیکی کے لئے منتخب کیا،کیا تو مجھے نہیں جانتا کہ میں نے تیرے باپ آدم سے کس طر ح دشمنی کی آخر تو نے میرے ساتھ احسان کیوں کیا؟'' آخر تجھے مجھ سے کیا لالچ تھا،نہ تو میرے پاس مال و دولت ہے اور نہ ہی کوئی سواری وغیرہ ہے کہ جسے بطور انعام تجھے دوں۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا:''میں نے تو صرف رضائے الٰہی عزوجل کے لئے تیرے ساتھ نیکی کی تھی، اگر تو مجھے مارنا ہی چاہتا ہے تو مجھے پہاڑ پر جانے دے تا کہ میں وہیں رہ کر اپنی جان دے دو ں ۔'' سانپ نے کہا:'' ٹھیک ہے، تم پہاڑ پر چلے جاؤ۔'' چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پہاڑ پر آئے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔

    جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پہاڑ پر پہنچے تواچانک وہاں ایک نوجوان نظر آیا جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طر ح روشن تھا، اس نے کہا:'' اے شیخ! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہیہاں زندگی سے مایوس ہو کر موت کا انتظار کیوں کر رہے ہیں؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سانپ والا سارا واقعہ بتایااور کہا:''اب سانپ میرے پیٹ میں موجود ہے، میں نے تواِسے دشمن سے بچانے کے لئے پناہ دی تھی مگریہ مجھے مارنا چاہتا ہے ۔'' 

    اس نوجوان نے کہا:'' میں اپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی مدد کے لئے آیاہوں۔''پھر اس نے اپنی چادر سے ایک بُوٹی نکالی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کھلائی۔ جیسے ہی آپ نے وہ بُوٹی کھائی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کپکپانے لگے پھر اس نوجوان نے دوبارہ وہی بُو ٹی کھلائی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیٹ میں شدید ہل چل ہوئی اور درد سا محسوس ہونے لگا ، پھر جب تیسری بار وہ بُوٹی کھلائی توسانپ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پیچھے کے مقام سے نکل گیا اورآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سکون حاصل ہوا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس نوجوان سے پوچھا :''اے محسن! آپ یہ تو بتاؤ کہ آپ کون ہو؟آج آپ نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔''

    وہ نوجوان کہنے لگا : ''کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے نہیں پہچا نا ؟ ارے میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نیک عمل ہوں۔جب