میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرمایا جو خلفاء اربعہ علیہم الرضوان کے ساتھ فرمایا اور مجھے بھی جنت میں جانے کا حکم ہوا ہے۔ان کے علاوہ باقی لوگو ں کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ وہ شخص کہنے لگا:''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو بہت بہت مبارک ہو کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا میاب ہو گئے ۔''میں نے پوچھا :'' تم کون ہو؟'' اس نے کہا :''میرا نام حجاج بن یوسف ہے، مجھے جب اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو میں نے اپنے پروردگار عز وجل کوبہت غضب وقہر کے عالم میں پایا اور مجھے ہر اس قتل کے بدلے سخت عذاب دیا گیا جو میں نے دنیا میں کیا تھاجن طریقوں سے میں نے دنیا میں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا تھا انہی طریقوں سے مجھے بھی سخت عذاب دیا گیا۔اب میں یہاں پڑاہوا ہوں اور اپنے رب عزوجل کی رحمت کا اُمیدوار ہوں جس طر ح کہ سب مُوحِّدین منتظر ہیں۔ اب یا تو ہمارا ٹھکانا جنت ہوگا یا جہنم ۔''حضر ت سیدنا ابو حازم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''حضرت سیدنا عمربن عبد العزیز علیہ رحمۃاللہ المجید کے اس خواب کے بعد میں نے عہد کرلیا کہ آئندہ کبھی بھی کسی مسلمان کو قطعی جہنمی نہیں کہوں گا۔'' (یعنی بندہ چاہے کتناہی گناہ گار کیوں نہ ہو اللہ عزوجل کی رحمت بڑی وسیع ہے وہ جسے چاہے بخش دے )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)