Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
113 - 410
میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرمایا جو خلفاء اربعہ علیہم الرضوان کے ساتھ فرمایا اور مجھے بھی جنت میں جانے کا حکم ہوا ہے۔ان کے علاوہ باقی لوگو ں کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ وہ شخص کہنے لگا:''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو بہت بہت مبارک ہو کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا میاب ہو گئے ۔''میں نے پوچھا :'' تم کون ہو؟'' اس نے کہا :''میرا نام حجاج بن یوسف ہے، مجھے جب اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو میں نے اپنے پروردگار عز وجل کوبہت غضب وقہر کے عالم میں پایا اور مجھے ہر اس قتل کے بدلے سخت عذاب دیا گیا جو میں نے دنیا میں کیا تھاجن طریقوں سے میں نے دنیا میں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا تھا انہی طریقوں سے مجھے بھی سخت عذاب دیا گیا۔اب میں یہاں پڑاہوا ہوں اور اپنے رب عزوجل کی رحمت کا اُمیدوار ہوں جس طر ح کہ سب مُوحِّدین منتظر ہیں۔ اب یا تو ہمارا ٹھکانا جنت ہوگا یا جہنم ۔''حضر ت سیدنا ابو حازم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''حضرت سیدنا عمربن عبد العزیز علیہ رحمۃاللہ المجید کے اس خواب کے بعد میں نے عہد کرلیا کہ آئندہ کبھی بھی کسی مسلمان کو قطعی جہنمی نہیں کہوں گا۔'' (یعنی بندہ چاہے کتناہی گناہ گار کیوں نہ ہو اللہ عزوجل کی رحمت بڑی وسیع ہے وہ جسے چاہے بخش دے )

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر45:                 مکاّر سانپ
    حضرت سیدنا محمدبن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :'' ایک مرتبہ حضرت سیدنا حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شکار کے لئے گئے۔ جب وہ ایک ویران جگہ پہنچے تو اچانک ان کی سواری کے سامنے ایک سانپ آگیا اور اپنی دم پرکھڑا ہوگیا اور بڑی لجاجت سے حضرت سیدنا حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض گزار ہوا :'' (خدا کے لئے)مجھے میرے دشمن سے پناہ دیجئے، اللہ رب العزت عز وجل آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوا پنے عرش عظیم کے سائے میں اس دن پناہ دے گا جس دن اس کے عرش کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، برائے کرم !مجھے میرے دشمن سے بچالیجئے ورنہ وہ میرے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔'' حضرت سیدنا حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''میں تجھے کہاں چھپاؤں ؟ ''وہ سانپ کہنے لگا :'' اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نیکی کرنا چاہتے ہيں تو مجھے اپنے پیٹ میں پناہ دے دیجئے۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:''آخر تو ہے کون اور مجھ سے پناہ کیوں چاہتا ہے ؟ '' سانپ نے کہا: ''میں مسلمان ہوں، مجھے مسلمان سمجھ کر پناہ دے دیجئے ۔''حضرت سیدنا حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے لئے اپنا منہ کھول دیا اور اسے اپنے پیٹ میں جانے دیا۔کچھ دیر کے بعد ایک نوجوان آیا جس نے ایک تیز تلوار اپنے کندھے پر لٹکائی ہوئی
Flag Counter