Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
112 - 410
    پھر انہوں نے اچانک رونا شرو ع کردیا اور اتنا زور سے روئے کہ ہم سب نے ان کی آواز سنی، پھر یکدم ہنسنے لگے ۔میں نے کہا:'' حضور! ہم نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو بڑی تعجب خیز حالت میں دیکھا ۔پہلے تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ خوب روئے پھر ہنسنا شروع کردیا، اس میں کیا راز ہے ؟'' انہوں نے پوچھا :'' کیا تم نے مجھے اس حالت میں دیکھ لیا؟''میں نے کہا :''جی ہاں! ہم سب نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہکی یہ تعجب خیزحالت دیکھی ہے۔''تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے:'' اے ابو حازم (علیہ رحمۃ اللہ المُنعم) ! بات دراصل یہ ہے کہ جب مجھ پر غشی طاری ہو ئی تو میں نے خواب دیکھا کہ قیامت قائم ہوچکی ہے ، اور مخلوق حساب و کتاب کے لئے میدان محشر میں جمع ہے، تمام اُمتوں کی 120صفیں ہیں جن میں سے اسّی(80)صفیں اُمتِ محمد یہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کی ہیں۔ تمام لوگ منتظر ہیں کہ کب حساب کتاب شرو ع ہوتاہے۔

    اچانک ندادی گئی :'' عبداللہ بن عثمان ابوبکرصدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہاں ہے؟'' چنانچہ حضرت سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فر شتو ں نے بارگاہِ خداوندی عزوجل میں حاضر کیا۔ ان سے مختصر حساب لیا گیا اور انہیں دائیں جانب جنت کی طر ف جانے کا حکم ہوا ۔پھر حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آواز دی گی ؟ وہ بھی بارگاہِ ربُّ العزَّت عزوجل میں حاضر کئے گئے اور مختصر حساب کے بعد انہیں بھی جنت کا مژدہ سنادیا گیا،پھرحضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی مختصر حساب کے بعدجنت میں جانے کا حکم سنایا گیا پھر حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو ندادی گئی۔ چنا نچہ وہ بھی بارگاہِ احکم الحاکمین عزوجل میں حاضر ہوگئے اور انہیں بھی مختصر حساب کے بعد جنت کا پر وانہ مل گیا۔

    جب میں نے دیکھا کہ اب میری باری آنے والی ہے تو میں منہ کے بل گر پڑا اور مجھے معلوم نہیں کہ خلفاء اربعہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد والوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا، پھر ندادی گئی کہ عمر بن عبد العزیزکہا ں ہے ؟ میری حالت خراب ہونے لگی اور میں پسینے میں شرابور ہوگیا، مجھے بارگاہِ خداوندی عزوجل میں حاضر کیا گیا اور مجھ سے حساب کتاب شرو ع ہوا اور ہر اس فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا جو میں نے کیا حتّٰی کہ گٹھلی ،اس کے دھاگے اورگٹھلی کے چھلکے تک کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی، پھر مجھے بخش دیا گیا (اور جنت میں جانے کا حکم صادر ہوا)راستے میں میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو گلے سڑے جسم کے ساتھ راکھ پر پڑا تھا۔ میں نے فرشتو ں سے پوچھا :''یہ کون ہے ؟'' توفرشتو ں نے کہا:'' آپ اس سے بات کیجئے، یہ آپ کو جواب دے گا۔'' میں اس کے پاس گیا اور اسے ٹھو کر مار ی تو ا س نے آنکھیں کھول دیں اور سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگا۔میں نے اس سے پوچھا: ''تو کون ہے ؟'' اس نے کہا:''آپ کون ہو؟'' میں نے کہا :''میں عمر بن عبدالعزیز ہوں۔'' پھر اس نے پوچھا :''اللہ ربُّ العزَّت نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟'' میں نے کہا :'' مجھے میرے رحیم وکریم پروردگار عزوجل نے اپنے فضل وکرم سے بخش دیا اور