حضرت سیدنا ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ المُنعم فرماتے ہیں :'' جب حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃاللہ المجید خلیفہ بن گئے تو ایک دن میں ا ن سے ملاقات کے لئے گیا۔ وہ کچھ لوگو ں میں تشریف فرماتھے ، میں انہیں نہ پہچان سکا لیکن انہوں نے مجھے پہچان لیا اور فرمایا:'' اے ابو حازم ( علیہ رحمۃ اللہ المُنعم)! میرے قریب آؤ ، میں ان کے قریب گیااور عرض کی:'' کیا آپ ہی امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز (علیہ رحمۃاللہ المجید) ہیں؟'' انہوں نے فرما یا:''جی ہاں میں ہی عمر بن عبدالعزیز ہوں۔''
میں بہت حیران ہوا اور عرض کی:'' جس وقت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مدینہ منورہ میں ہمارے امیر تھے اس وقت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہکا حسن وجمال عروج پر تھا، چہرہ انتہائی تاباں اور روشن تھا، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بہترین لباس اور بہت ہی عمدہ سواریاں تھیں ،آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے کثیر خدّام تھے، اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی رہائش گاہ بہت ہی عمدہ تھی ۔ اب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے اس حال میں پہنچا دیا۔حالانکہ اب توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ امیر المؤمنین ہیں،اب توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس زیادہ آسائشیں ہونی چاہيں تھیں۔'' امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ المجیدیہ سن کر رونے لگے اور فرمایا:''اے ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ المُنعم!اس وقت میرا کیا حال ہوگا جب میں اندھیر ی قبر میں پہنچ جاؤں گا اور میری آنکھیں بہہ کر میرے رخساروں پر آجائیں گی ، میرا پیٹ پھٹ جائے گا، زبان خشک ہوجائے گی اور کیڑے میرے جسم پر رینگ رہے ہوں گے چاہے میں کتنا ہی انکار کرو ں۔''
پھر روتے ہوئے فرمانے لگے:'' اے ابو حازم (علیہ رحمۃ اللہ المُنعِم)!مجھے وہ حدیث سناؤ جو تم نے مجھے مدینہ منورہ میں سنائی تھی۔'' تومیں نے کہا:'' اے امیر المؤمنین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ! میں نے حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ فرماتے ہوئے سناکہ نبی ئمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' تمہارے سامنے دشوار گزار گھاٹی ہے جس سے صرف کمزور اور نحیف لوگ ہی گزر سکیں گے۔ '' ( حلیۃ الاولیاء،مسند عمر بن عبد العزیز،رقم :۷۲۹۸،ج۵،ص۳۳۳)
یہ حدیثِ پاک سن کرحضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ المجید بہت دیر تک روتے رہے، پھر فرمایا:'' اے ابوحازم (علیہ رحمۃ اللہ المُنعم)!کیا میرے لئے یہ بہتر نہیں کہ میں اپنے جسم کو کمزور ونحیف بنالوں تا کہ اس ہولناک وادی سے گزر سکوں؟ لیکن مجھے اس خلافت کی آزمائش میں مبتلا کر دیا گیا ہے، پس معلوم نہیں کہ مجھے نجات ملے گی یا نہیں ۔'' پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہوگئی۔ لوگوں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے متعلق باتیں بنانا شروع کردیں، میں نے لوگو ں سے کہا:'' تم امیر المؤمنین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے متعلق باتیں نہ بناؤ، تمہیں کیا معلوم!یہ کس مصیبت سے دوچار ہيں ۔''