* عورتوں کی عادت کے مطابق کم یاب ہے اور کم یاب پر حکم نہیں ہوتا تو ماننے کی راہ یہ ہے کہ اس (زیارتِ قبر)سے بھی روکنا چاہیے۔
(۱)اگر یہ غم تازہ کرنے، رونے اور بین کرنے کے لیے ہو جیسا کہ عورتوں کی عادت ہے تو ناجائز ہے، اسی پر محمول ہوگی یہ حدیث کہ ''اللہ نے زیارت قبر کرنے والیوں پر لعنت کی'' اور اگر عبرت حاصل کرنے، روئے بغیر رحم کھانے اور قبور صالحین سے برکت حاصل کرنے کے لیے ہو تو جماعت مسجد میں حاضری کی طرح بوڑھیوں کے لیے حرج نہیں اورجوانوں کے لیے مکروہ ہے۔ررالمحتار میں اضافہ ہے کہ یہ عمدہ تطبیق ہے۔(الردالمختارج ۳ کتاب الصلاۃ باب صلاۃ الجنازۃ مطلب فی زیارۃ القبور ص ۷۸ ادارالمعرفۃ بیروت)
(۲)اس پر میں (امام احمد رضا)نے حاشیہ لکھا کہ میں کہتا ہوں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ فتویٰ اس پر ہے کہ جماعتِ مسجد کی حاضری عورتوں کے لیے مطلقاً منع ہے اگرچہ عورت بوڑھی ہو، اگرچہ رات کو نکلے تو یوں ہی زیارت قبور کو نکلنے میں سبھی عورتوں کے لیے ممانعت ہوگی۔ بلکہ یہاں زیادہ ہوگی۔(۳)شیخ فانی، فنا کے قریب پہنچا ہوا بوڑھا، مرتعش، جس کو رعشہ اور برابر کپکپی کا مرض ہو(۴)تعلق (۵)اتفاق (داعی الی اللہ، اللہ کی طرف دعوت دینے والی، ظاہر ہے کہ اہلِ باطن اپنی اصطلاح *