| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
اتباع جنازہ (۲)کہ فرض کفایہ (۳)ہے جب اس کے لیے ان کا خروج ناجائز ہوا تو زیارتِ قبور کہ صرف مستحب ہے اس کے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ پھر نفس ِ زیارت قبر جس کے لیے عورت کا خروج نہ ہو، اس کا جواز بھی عِندالتحقیق فی نفسہ ہے کہ جن شروط مذکورہ سے مشروط ان کااِجتماع نظر بعادتِ زناں نادر ہے، اور نادر پر حکم نہیں ہوتا، تو سبیل اَسلم اس سے بھی روکنا ہے(۴)
زیارتِ قبر سے منع کرنے اور نہ منع کرنے میں تطبیق اور اس پر اعلیٰ حضرت کا حاشیہ
ردالمحتار ومنحۃ الخالق میں ہے۔
ٳن کان ذلک لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ما جرت بہ عادتھن فلا تجوز، ولیہ حمل حدیث لعن اللہ زائرات القبور وٳن کان للاعتبار الترحم من غیر بکاء والتبرّک بزیارۃ
* زیارت مرد و عورت دونوں کے لیے ثابت ہے۔(البحرالرائق ج ۲ کتاب الجنائز فصل السلطان احق بصلوتہ ص ۲۳۷ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان) (۱)(عورتوں کو جنازے میں '' نکلنا'' نہ چاہیے، کیونکہ نبی کریم نے انہیں اس سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ گنہ گار بے ثواب پلٹتی ہیں(البحرالرائق ج ۲ کتاب الجنائز فصل السلطان احق بصلوتہ ص ۲۳۷ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان۔) (۲)جنازہ کے ساتھ چلنا(۳)شریعت کا وہ حکم کہ اگرکسی ایک نے ادا کیا تو سب کی طرف سے ہوگیا اور اگر کسی نے ادا نہ کیا تو سب گنہگار ہوں ۔ (۴)اصلِ مسئلہ قبرکی زیارت کیلئےعورت کا نکلنا نہ ہو ،اس کا جائز ہونا اس کے اصلِ مسئلہ میں تحقیق کی رو سے جوذکر کی گئی شرائط کے ساتھ مشروط کی گئیں ہیں ان کا جمع ہونا *