Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
51 - 53
محض (۱)ہو تو حرج نہیں۔ امام شعرانی میزانُ الشّریعۃ الکبریٰ میں فرماتے ہیں۔
قد اجمع اھل الکشف علی اشتراط الذکورۃ فی کل داع الی اللہ ولم یبلغنا ان احدا من نساء السلف الصالح تصدرت التربیۃ المریدین ابدا لنقص للنساء فی الدرجۃ وان وردالکمال فیا بعضھن کمریم بنت عمران واسیۃ امرأۃ فرعون فذلک کمال بالسنبۃ للتقویٰ والدین لا بالنسبۃ للحکم بین الناس وتسلیکھم فی مقامات الولایۃ وغایۃ امرالمرأۃ ان تکون عابدۃ زاھدۃ کرابعۃ العدویۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا(۲)  واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (۳)
* میں داعی الی اللہ اس کو نہیں کہتے، جس نے کسی کو نماز و روزہ یا اسلام و ایمان کی تلقین کردی۔ یہ تو ہماری اصطلاح میں داعی و مبلغ کہا جائے گا۔ مگر اہلِ باطن داعی اِلیَ اللہ اسے کہیں گے جو اپنی ہدایت و ارشاد ، تربیت و تعلیم اور باطن کی صفائی کے ذریعہ خدا تک پہنچنے کی دعوت دینے والا، اور خدا تک پہنچانے والا ہو جیسا کہ امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمۃ کی عبارت سے ظاہر ہے۔ یقینا ان کے نزدیک یہ عورت کا منصب نہیں، ہاں عورت کا منصب اتنا ضرور ہے کہ اپنی اولاد ، محارم، (جن سے پردہ نہیں اور یہ وہ ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے)شوہر یا صرف عورتوں کو نیک باتوں کا حکم کرے۔ برائیوں سے روکے، البتہ نامحرموں اور عام مجمعوں سے خطاب کرنا اس کی حدود سے باہر ہے۔(۱)اہلِ باطن کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ ہر داعی الی اللہ کے لیے مرد ہونا شرط ہے، اور ہمیں ایسی کوئی روایت نہیں ملی کہ سلفِ صالحین کی مستوارت میں سے کوئی خاتون مریدوں کی تربیت کے لیے کبھی گدی نشیں ہوئی ہوں۔ کیونکہ عورتیں درجہ میں کم ہیں۔ اور بعض خواتین مثلاً حضرت مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۀ فرعون رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں جو کامل ہونے کا ذکر آیا ہے تو یہ کامل ہونا تقویٰ اور دینداری کے لحاظ سے ہے۔ لوگوں کے درمیان حاکم ہونے اور انہیں مقامات ولایت طے کرانے کے لحاظ سے نہیں ہے عورت کی انتہائی درجہ کی شان بس یہ ہے کہ عابدہ، زاہدہ، ہو، جیسے رابعہ عدویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (المیزان الکبریٰ ج ۲ کتاب الاقضیہ ص ۱۸۹ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

(۳)اور اللہ وہ پاک ہے اور بلند ہے، زیادہ جانتا ہے اور اس کا علم اس کی بزرگی عظیم ، زیادہ مکمل اور محکم ہے۔
Flag Counter