وہی بحرالرائق جس میں تھا۔
الا صح ان الرخصۃ ثابتۃ لھما(۶)
لاینبغی للنساء ان یخرجن فی الجنازۃ لان النبی
(۱)(انہوں نے یوں فرمایا اور صحیح تر یہ ہے کہ رخصت مردو عورت دونوں کے لیے ثابت ہے، کیونکہ مروی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قبر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت تو ہر وقت کرتیں، اور جب سفر حج کو نکلتیں تو راہ میں اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر کی زیارت کرلیتیں۔(کشاف الاسرار عن اصول البزدوی ج ۳ باب تقسیم الناسخ ص ۲۷۷ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت) (۲)(عورتوں کے لیے قبور کی زیارت صحیح تر قول کے مطابق مکرو تحریمی (حرام کے قریب ہے) (۳)یقیناً(۴)(عورتوں کے لیے ''زیارت قبور '' میں حرج نہیں۔ (الدرالمختارج ۳ کتاب الصلوۃ باب صلاۃ الجنازۃ فی شرح ویخرج ولدھا ص ۱۷۷ دارالمعرفتہ بیروت) (۵)(عورتوں کا نکلنا مکروہ تحریمی ہے(الدرالمختارج ۳ کتاب الصلوۃ باب صلاۃ الجنازۃ فی شرح ویخرج ولدھا ص ۱۷۷ دارالمعرفتہ بیروت)
(۶صحیح تر یہ ہے کہ رخصت*