Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
48 - 53
جمیعا فقدرروی ان عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانت تزور قبر رسول اللہ   فی کل وقت وانھا لما خرجت حاجۃ زارت قبر اخیھاعبدالرحمن (۱)
عورتوں کا زیارت قبورکے لیے جانا مکروہ تحریمی ہے
بحرالرائق و عالمگیری و جامع الرّموز و مختارُ الفتویٰ وکشفُ الغطاء وسراجیّہ و دُرمختار و فتح المنان کی عبارتیں جن سے تصحیح المسائل میں استناد کیا، ہمارے خلاف نہیں، ہاں مائۃ مسائل پر رد ہیں، جس میں مطلق کہا تھا، زنان را زیارتِ قبور بقولِ اَصح مکروہ تحریمی است ''(۲) لاجرم(۳)وہی درمختار میں تھا۔
لا باس بزیارۃ القبور للنساء (۴)
اسی میں ہے
ویکرہ خروجھن تحریما(۵)
جنازہ میں شرکت کی ممانعت
وہی بحرالرائق جس میں تھا۔
الا صح ان الرخصۃ ثابتۃ لھما(۶)
اسی میں ہے۔
لاینبغی للنساء ان یخرجن فی الجنازۃ لان النبی
 (۱)(انہوں نے یوں فرمایا اور صحیح تر یہ ہے کہ رخصت مردو عورت دونوں کے لیے ثابت ہے، کیونکہ مروی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قبر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت تو ہر وقت کرتیں، اور جب سفر حج کو نکلتیں تو راہ میں اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر کی زیارت کرلیتیں۔(کشاف الاسرار عن اصول البزدوی ج ۳ باب تقسیم الناسخ ص ۲۷۷ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت) (۲)(عورتوں کے لیے قبور کی زیارت صحیح تر قول کے مطابق مکرو تحریمی (حرام کے قریب ہے) (۳)یقیناً(۴)(عورتوں کے لیے ''زیارت قبور '' میں حرج نہیں۔ (الدرالمختارج ۳ کتاب الصلوۃ باب صلاۃ الجنازۃ فی شرح ویخرج ولدھا ص ۱۷۷ دارالمعرفتہ بیروت) (۵)(عورتوں کا نکلنا مکروہ تحریمی ہے(الدرالمختارج ۳ کتاب الصلوۃ باب صلاۃ الجنازۃ فی شرح ویخرج ولدھا ص ۱۷۷ دارالمعرفتہ بیروت)  

(۶صحیح تر یہ ہے کہ رخصت*
Flag Counter