| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
انیق (۱)ظاہر ہوئی عامّئہ مجوزین (۲)''نفس زیارتِ قبر (۳) لکھتے ہیں کہ اس کی اجازت عورتوں کو بھی ہوئی، زیارت قبور کے لیے ''خروجِ نساء، نہیں کہتے، عام کُتب میں اسی قدر ہے، اور مانعین (۴)زیارتِ قبر کے لیے عورتوں کے ''جانے'' کو منع فرماتے ہیں، وَلِہذا خُروج اِلیَ المسجد(۵)کی ممانعت سے سند لاتے ہیں، اوران کے خروج میں خوف فتنہ سے استدلال فرماتے ہیں(۶)،تمام نصوص کہ ہم نے ذکر کیے ، اسی طرف جاتے ہیں، تو اگر قبر گھر میں ہو یا عورت مثلاً حج یا کسی سفر جائز کو گئی، راہِ میں کوئی قبر ملی اس کی زیارت کرلی، بشرطیکہ جزع وفزع وتجدیدحزن و بکاو نوحہ وافراط وتفریط ادب وغیرہا منکراتِ شرعیہ سے خالی ہو۔ کشف بزدوی میں جن روایات سے صحتِ رخصت پر استنادفرمایا، اُن کا مفاد (۷) اسی قدر ہے۔
حیث قال والا صح ان الرخصۃ ثابتۃ للرجال والنساء
* ہے۔ جو جائز کہنے والے ہیں وہ ''زیارت قبر'' کو جائز کہتے ہیں، اس مقصد سے ''جانے اور باہر نکلنے'' کو نہیں اور جو ناجائز کہتے ہیں وہ زیارتِ قبر کے لیے '' جانے اور باہر نکلنے''کو ناجائز کہتے ہیں۔خاص زیارتِ قبر کو نہیں تو اگر ایسی صورت ہو کہ اس مقصد سے نکلنا نہ پایا جائے۔ اور زیارتِ قبر کرلیں تو منع کرنے والے بھی اِسے جائز رکھیں گے۔ مثلاً (i)قبر گھر میں ہے۔(ii)عورت سفر حج (iii) یا کسی سفر جائز کو جاری ہے۔ راہ میں قبر ہے، اس نے زیارت کرلی تو اس قدر جائز ہی ہوگا۔ بشرطیکہ ایسا کوئی معاملہ نہ پایا جائے جو شرعاً جائز نہیں مثلاً رونا دھونا، بے صبری،گھبراہٹ پریشانی ظاہرکرنا، قبرکی بے ادبی حد ِ شرع سے زیادہ تعظیم کرنا وغیرہ ۔ لیکن چونکہ یہ ساری رعایتیں عموماً عورتوں سے ہو نہیں پاتیں۔ اس لیے فاضل بریلوی آگے فرماتے ہیں کہ زیادہ خیریت اسی میں ہے کہ انہیں اس سے بھی روکا جائے، (عام اجازت نہ دی جائے) اور ایک مُستحب کی لالچ میں بہت سی ممنوعات کا خطرہ مول نہ لیا جائے۔(۱)بڑی اور مشکل باریک توفیق(۲)عام جائز کہنے والے(۳)اصل ، قبر کی زیارت(۴)منع کرنے والے(۵)اور اس لیے مسجد کی طرف نکلنے (۶)فتنہ کے خوف سے دلیل پکڑتے ہیں۔(۷)جن روایات سے اجازت پر دلیل پکڑی گئی ان کا فائدہ ۔