Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
46 - 53
استاذنتہ زیارۃ الابوین وعیادتھما وتعزیتھما اواحدھما وزیارۃ المحارم فان کانت قابلۃ اوغسالۃ اوکان لھا علی اخرحق او کان لاخرعلیھا حق تخرج بالاذن وبغیر الاذن والحج علی ھذا و فیما عداذلک من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ لایأذن لھا ولا یخرج ولو اذن وخرجت کانا عاصیین (۱)
ملاحظہ ہو ان میں کہیں زیارت قبور کا بھی استثناء  (۲)کیا؟

کیا یہ استثناء کسی معتمد  (۳)کتاب میں مل سکتا ہے؟
 (۱۴) اقول وﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (۴)
محض زیارت قبراور زیارتِ قبور کے لیے عورتوں کے نکلنے میں فرق
ان تمام مباحث جلیلہ (۵)سے بحمد اللہ تعالیٰ ایک جلیل و دقیق توفیق
 (۱)(شوہر کے لیے جائز ہے کہ عورت کو سات مقامات میں نکلنے کی اجازت دے(i) ماں باپ دونوں یا کسی ایک کی ملاقات ((iiان کی عیادت (iii) ان کی تعزیت (iv) محارم کی ملاقات (v) اگر دایہ ہو (vi) یا مردہ کو نہلانے والی ہو (vii)یا اس کا کسی دوسرے پر حق ہو یا دوسرے کا اس پر حق ہو، تو ان آخری تین صورتوں میں اجازت لے کر اور بلااجازت بھی نکلے گی،۔ حج بھی اسی حکم میں ہے۔ ان صورتوں کے علاوہ اجنبیوں کی ملاقات ان کی عیادت اور دعوت ولیمہ کے لیے شوہر اجازت نہ دے، اگر اجازت دی اور عورت گئی تو مرد و عورت دونوں گنہگار ہوں گے۔(خلاصۃ الفتاویٰ ج ۲ کتاب النکاح الفصل الخامس عشرفی الخطر والا باحۃ الجنس الخامس فی الخروج المراۃ من البیت ص ۵۳ مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ ) (۲)علیحدہ حکم بیان کرنا(۳)معتبر قابلِ قبول(۴)(میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندیوں تک رسائی ہے۔)

(۵)(یہی وہ تطبیق ہے جس کا اشارہ Vکے حاشیہ میں گزرا۔ حاصل یہ ہے کہ علمائے کرام کی عبارتوں میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ جائز کہنے والے عام علماء نے یہ لکھا ہے کہ عورت کے لیے ''زیارت قبر'' جائز ہے۔ اور ناجائز کہنے والوں نے یہ فرمایا ہے کہ زیارتِ قبر کے لیے عورتوں کا ''جانا'' منع *
Flag Counter