ان تمام مباحث جلیلہ (۵)سے بحمد اللہ تعالیٰ ایک جلیل و دقیق توفیق
(۱)(شوہر کے لیے جائز ہے کہ عورت کو سات مقامات میں نکلنے کی اجازت دے(i) ماں باپ دونوں یا کسی ایک کی ملاقات ((iiان کی عیادت (iii) ان کی تعزیت (iv) محارم کی ملاقات (v) اگر دایہ ہو (vi) یا مردہ کو نہلانے والی ہو (vii)یا اس کا کسی دوسرے پر حق ہو یا دوسرے کا اس پر حق ہو، تو ان آخری تین صورتوں میں اجازت لے کر اور بلااجازت بھی نکلے گی،۔ حج بھی اسی حکم میں ہے۔ ان صورتوں کے علاوہ اجنبیوں کی ملاقات ان کی عیادت اور دعوت ولیمہ کے لیے شوہر اجازت نہ دے، اگر اجازت دی اور عورت گئی تو مرد و عورت دونوں گنہگار ہوں گے۔(خلاصۃ الفتاویٰ ج ۲ کتاب النکاح الفصل الخامس عشرفی الخطر والا باحۃ الجنس الخامس فی الخروج المراۃ من البیت ص ۵۳ مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ ) (۲)علیحدہ حکم بیان کرنا(۳)معتبر قابلِ قبول(۴)(میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندیوں تک رسائی ہے۔)
(۵)(یہی وہ تطبیق ہے جس کا اشارہ Vکے حاشیہ میں گزرا۔ حاصل یہ ہے کہ علمائے کرام کی عبارتوں میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ جائز کہنے والے عام علماء نے یہ لکھا ہے کہ عورت کے لیے ''زیارت قبر'' جائز ہے۔ اور ناجائز کہنے والوں نے یہ فرمایا ہے کہ زیارتِ قبر کے لیے عورتوں کا ''جانا'' منع *