Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
45 - 53
خرجن ولا شیئی للمرأۃ احسن من الزوم قعربیتھا(۱)
الحمدللہ !اب تو وضو حق  (۲)میں کچھ کمی نہ رہی۔
شوہر صرف چند مقامات کے لیے عورت کو اجازت دے
 (۱۳)ذرا یہ بھی دیکھ لیجئے کہ ہمارے علماء کرام نے خروجِ زن  (۳)کے چند مواضع   (۴)گنائے جن کا بیان ہمارے رسالہ مروج النجالخروج النساء(۵)میں ہے۔ اور صاف فرمادیا ہے کہ انکے سِوا میں اجازت نہیں۔ اور اگر شوہر اِذن دے گا تو دونوں گنہگار ہوں گے۔

درمختار میں ہے۔
لاتخرج الالحق لھا اوعلیھا اولزیارۃ ابویھا کل جمعۃ مرۃ اوالمحارم کل سنۃ ولکونھا قابلۃ اور غاسلۃ لا فیما عداذلک وان اذن کانا عاصیین (۶)
نوازل امام فقیہ ابواللیث وفتاویٰ خلاصہ وفتح القدیر وغیرہا میں ہے۔
یجوز للزوج ان یاذن لھا بالخروج الی سبعۃ مواضع اذا
 (۱)رہیں جوان عورتیں تو ان پر اور ان سے فتنہ واقع ہوجانے سے بے خوفی نہیں،یہ جہاں بھی نکلیں ، عورت کے لیے اپنے گھر کی تہ اختیار کرنے سے بہتر کوئی چیز نہیں(عمدۃ القاری شر ح صحیح البخاری ج ۶ کتاب الجنائز باب باب زیارۃ القبور ص ۹۵ رقم الحدیث ۱۲۸۳ مطبوعہ دارالحدیث ملتان پاکستان) (۲)حق کے ظاہر ہونے میں(۳)عورت کے باہر نکلنے 

(۴)جگہیں، مواقع(۵)یہ رسالہ فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور جلد ۲۲ میں موجود ہے۔(۶)عورت نہ نکلے مگر اپنے لیے یا اپنے اور کسی حق کے سبب یا ہر ہرہفتہ میں ایک بار والدین کی ملاقات کے لیے یا سال میں ایک بار دیگر محارم کی ملاقات کے لیے اور دایہ یا نہلانے والی ہونے کے سبب، ان کے علاوہ صورتوں میں نہ نکلے اور اگر شوہر نے اجازت دے دی تو دونوں گنہگار ہوں گے۔(الدرالمختار ج ۴ کتاب النکاح باب المھر فی شرح زیارۃ اہلھا بلا اذنہ مالم تقبضہ ص ۲۸۶ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)
Flag Counter