| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
اسی کی جلد چہارم کا مطلب واضح کردیا، کہ حکم کیا بیان فرمایا یہ کہ اب زیارت قبور عورتوں کو مکروہ ہی نہیں، بلکہ حرام ہے، یہ نہ فرمایا کہ ویسی کو حرام ہے، ایسی کو حلال ہے، ویسی کو تو پہلے بھی حرام تھا، اس زمانہ کی کیا تخصیص؟ آگے فرمایا ''خصوصا زنانِ مصر''اور اس کی تعلیل کی(۱) کہ ان کا خروج بروجہِ فِتنہ ہے، یہی اَوْیویَّت تحریم کی وجہ (۲)ہے ۔نہ کہ حکمِ وقوع فِتنہ سے خاص اور فتنہ گر عورتوں سے مخصوص، ہاں!یہ مسلک شافعیوں کا ہے، ابھی امام عینی سے سُن چکے کہ
عن الشافعی یباح لھن الخروج(۳)
ولھذا کرمانی، پھر عسقلانی،پھر قسطلانی کہ سب شافعیہ ہیں ، شروح بخاری میں اس طرف گئے، کرمانی نے قول امام تیمی کہ ''فسادِ بعض زنان کے سبب سب عورتوں کو ممانعت پر دلیل ہے۔'' نقل کرکے کہا۔
قلت الذی یعول علیہ ماقلناہ ولم یحدث الفساد فی الکل(۴)
جلد چہارم میں ابو عمر ابن عبدالبرسے دیکھئے۔
اما الثواب فلا یؤمن من الفتنۃ علیھن وبھن حیث
* عورت پر فتنے کا اندیشہ نہ ہو، اور سرکار کے مبارک زمانے میں ایسا ہی تھا۔ بخلاف ہمارے زمانے کے اس میں بُرائی پھیلی ہوئی ہے، اور مفسدین بدعمل زیادہ ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث بھی اسی کا پتہ دے رہی ہے۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج ۴ کتاب الاذان باب خروج النساء الیٰ المساجد ص ۶۴۷ رقم الحدیث ۸۶۵ مطبوعہ دارالحدیث ملتان پاکستان) (۱)وجہ بیان کی(۲)حرام ہونے کی اصل وجہ(۳)۔امام شافعی سے روایت ہے کہ ان (عورتوں) کا نکلنا جائز تھا۔(۴)(میں کہتا ہوں : قابل اعتماد ہی ہے، جو ہم نے بیان کیا ، سب عورتوں میں تو خرابی نہیں آئی ہے۔