فیہ (ای فی الحدیث ) انہ ینبغی (ای اللزوج )ان یاذن لھا ولا یمنعھا مما فیہ منفعتھا وذلک اذالم یخف الفتنۃ علیھا ولا بھا وقد کان ھو الا غلب فی ذلک الزمان یخلاف زماننا ھذا فان الفسادفیہ فاش والمفسدون کثیرون وحدیث عائشۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا یدل علی ھذا(۲)
(۱)دلیل مذکور کے پیش نظر ایسی عورت کو بھی روکا گیا جو خود بدکار نہیں، کیونکہ بدمعاشوں کا غلبہ ہے، اور رات کو بھی ممانعت ہے، اگرچہ نص امام سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے، اس لیے کہ ہمارے زمانے میں فاسقوں بدکاروں کی چلت پھرت اور چھیڑ چھاڑ زیادہ تر رات ہی کو ہوتی ہے، اور بعد کے علماء نے تو بوڑھیوں ، جوانوں سب کے لیے تمام نمازوں میں عام ممانعت کردی ہے، کیونکہ اب تمام اوقات میں فساد و خرابی کا غلبہ ہے ۔(فتح القدیر یرج اکتاب الصلوۃ باب الامامۃ ص ۳۱۷ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ سر کی روڈ کوئٹہ )
(۲)حدیث میں ہے کہ شوہر کو چاہیے کہ عورت کو اجازت دے دے اور اسے ایسے کام سے نہ روکے جس میں اس کا فائدہ ہے۔ یہ حکم اس حالت میں ہے جب کہ عورت سے اور *