Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
42 - 53
ان للہ فسد الناس(۱)
یہ فرما کر مکان کو واپس آئیں اور پھر جنازہ ہی نکلا۔ تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں یہ تنبیہ فرمائی کہ عورت کیسی ہی صالح ہو، اس کی طرف سے اندیشہ نہ سہی، فاسق مردوں کی طرف سے اس پر خوف کا کیا علاج؟
یہ ممانعت رَفع شر کے لیے ہے
اب یہ، سب کو ایک پھانسی پر لٹکانا ہوا، یا مقدس پاک دامنوں کی عزت کو شریروں کے شَر سے بچانا؟ ہمارے ائمہ نے دونوں علتیں ارشاد فرمائیں۔ ارشاد ہدایہ
لما فیہ من خوف الفتنۃ(۲)
دونوں کو شامل ہے ، عورت سے خوف ہو، یا عورت پر خوف ہو، اور آگے علت و دم کی تصریح  (۳)فرمائی کہ۔
لا باس للعجوز ان تخرج فی الفجر والمغرب والعشاء قالا یخرجن فی الصلوات کلھا لا نہ لا فتنۃ لقلۃ الرغبۃ الیھا ولہ ان فرط الشبق حامل فتقع غیر ان الفساق انتشار ھم فی الظھر والعصر والجمعۃ(۴)
 (۱)ہم اللہ کے لیے ہیں، لوگوں میں فساد آگیا(الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ج ۸ کتاب النساء حرف العین عاتکہ بنت زید بن عمرو نفیل العدویہ ص ۲۲۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان )

(۲)اس لیے کہ اس میں فتنے کا اندیشہ ہے(الہدایۃ اولین کتاب الصلوۃ باب الامامۃ ص ۱۰۵ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشز پاکستان)(۳) دوسری وجہ کی وضاحت (۴)فجر ،مغرب اور عشاء کے اندر بڑھیا کو آنے میں حرج نہیں، اور امام ابویوسف و امام محمد کہتے ہیں کہ بڑھیا تمام نمازوں میں حاضر ہو، اس لیے کہ اس کے نکلنے میں فتنہ نہیں کیونکہ اس کی طرف رغبت کم ہوتی ہے، امام اعظم کی دلیل یہ ہے کہ فاسقوں کی زیادِتی شہوت یہاں اُبھارتی ہے تو فتنہ واقع ہوجائے گا۔ ہاں یہ کہ فساق واوباش ظہر، عصر اور جمعہ کے اوقات میں ادھر ادھر پھیلے رہتے ہیں تو ان ہی اوقات میں بڑھیا کے لیے ممانعت ہوئی۔
Flag Counter