| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
عابدہ، زاہدہ، تقیہ، نقیہ(۱)حضرت عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس معنیٰ پر عملی طور سے مُتنبّہ(۲)کرکے حاضری مسجد کریم مدینہ طیبہ سے باز رکھا، ان پاک بی بی کو مسجد کریم سے عشق تھا، پہلے امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں آئیں ، قبلِ نکاح امیر المومنین سے شرط کرالی کہ مجھے مسجد سے نہ روکیں۔ اس زمانہ خیر میں عورتوں کو ممانعت قطعی جَزمی(۳) نہ تھی، جس کے سبب بیبیوں سے حاضری مسجد اور گاہ گاہ (۳) زیارتِ بعض مزارات بھی منقول ، صحیحین میں حضرت امَّ عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے۔
نھینا عن اتباع الجنائز ولم یعزم علینا(۵)
اسی پر غنیۃ کی اس عبارت میں فرمایا کہ یہ اس وقت تھا ، جب حاضریِ مسجد انہیں جائز تھی، اب حرام اور قطعی ممنوع ہے غرض اس وجہ سے امیرا لمومنین نے ان کی شرط قبول فرمالی، پھر بھی چاہتے یہی تھے کہ یہ مسجد نہ جائیں، یہ کہتیں آپ منع فرمادیں میں نہ جاؤں گی۔ امیر المؤمنین بہ پابندی شرط (۶) منع نہ فرماتے، امیر المومنین کے بعد حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح ہوا ، منع فرماتے وہ نہ مانتیں ایک روز انہوں نے یہ تدبیر کی کہ عشاء کے وقت اندھیری رات میں ان کے جانے سے پہلے راہ میں کسی دروازے میں چھپ رہے ، جب یہ آئیں، اس دروازے سے آگے بڑھتی تھیں کہ انہوں نے نکل کر پیچھے سے ان کے سرِ مبارک پر ہاتھ مارا، اور چھپ رہے، حضرت عاتکہ نے کہا۔
(۱)متقی و پرہیزگار(۲)خبردار(۳)مکمل طور پر سختی سے(۴)کبھی کبھار(۵)ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع فرمایا گیا، مگر قطعی ممانعت نہ تھی۔ (صحیح البخاری ج ۱ کتاب الجنائز باب اتباع النساء الجنازۃ ص ۱۷۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی پاکستان) (۶)شرط کی پابندی کرتے ہوئے