Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
40 - 53
فی لعنۃ اللّہ وملائکۃ واذا خرجت تحفھا الشیاطین من کل جانب واذاتت القبور یلعنھا روح المیت واذا رجعت کانت فی لعنۃ اﷲ ۔(۱)
ملاحظہ ہو اِستفتاء، کیا خاص فاسقات کے بارے میں تھا؟ مطلق عورتوں کے قبروں کو جانے کا سوال تھا، اس کا یہ جواب ملا، اس جواب میں کہیں فاسقات کی تخصیص ہے؟ غرض یہ تمام عبارات جن سے آپ نے استدلال فرمایا، آپ کی نقیض مدعا میں نص(۲) ہیں۔

(۱۲) یہاں ایک نکتہ اور ہے، جس سے عورتوں کی قسمیں بنانے، ان کی صلاح و فساد پر نظر کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے، اور قطعاً حکم سب کو عام ہوجاتا ہے، اگرچہ کیسی صالحہ پارسا ہو ۔ فتنہ وہی نہیں کہ عورت کے دل سے پیدا ہو، وہ بھی ہے اور سخت تر ہے، جس کا فساق سے عورت پر اندیشہ ہو یہاں عورت کی صَلاح (۳) کیا کام دے گی؟
حضرت زبیر نے اپنی زوجہ کو مسجد نبوی میں جانے سے روک دیا
حضرت سیّدنا زبیر بن العوّام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ مقدسہ، صالحہ،
 (۱)یعنی امام قاضی سے سوال ہوا کہ عورتوں کا مقابر کو جانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا ایسی جگہ جواز اور فساد نہیں پوچھتے، یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے، جب گھر سے قبروں کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہے اللہ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے، جب گھر سے باہر نکلتی ہے ، سب طرفوں سے شیاطین اسے گھیرلیتے ہیں، جب قبر تک پہنچتی ہے میت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے، جب واپس آتی ہے، اللہ کی لعنت میں ہوتی ہے۔(غنیۃ المستملی المشتہر بحلبی الکبیر فصل فی الجنائز الحبث الخامس ص ۵۹۴ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور پاکستان) (۲)آپ کے دعویٰ کی مخالفت میں دلیل ہیں(۳)اچھائی
Flag Counter