(۱۱) غنیۃ نے اِن دونوں عبارتوں کے بیچ میں آپ کی عبارت منقول کردہ متصل بحوالہ تاتارخانیہ تھا یہ شعبی سے جو کچھ نقل فرمایا، وہ بھی ملاحظہ ہو۔
سئل القاضی عن جواز خروج النساء الی المقابر قال لا یسئل عن الجواز و الفساد فی مثل ھذا وانما یسئل عن مقدار مایلحقھا من اللعن فیھا واعلم انھا کلما قصدت لخروج کانت
* عورتوں کے بارے میں یہ فرمارہی ہیں تو ہمارے زمانے کی عورتوں کا کیا حال ہوگا؟(غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی المشتہربالحلبی الکبیر فصل فی الجنائز البحث الخامس ص ۵۹۴مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور پاکستان ) (۱)(فاضل سائل نے غنیۃ المستملی کی عبارت نقل کرکے اس سے بھی اِستدلال کرنا چاہا تھا، امام احمد رضا علیہ الرحمۃ نے سائل کو اس سے آگے پیچھے کی عبارت دکھائی۔ اور بتایا کہ صاحبِ غنیہ نے اس وقت کی اجازت بیان کی ہے، جب عورتوں کے لیے مسجدوں کی حاضری جائز تھی مگر اپنے زمانے کے لیے تو وہ بھی عورتوں کا زیارتِ قبر کو جانا، ناجائز مانتے ہیں۔ اور دلیل میں یہی پیش کرتے ہیں کہ عورتوں کو مسجدوں کی حاضری سے ممانعت ہوئی تو قبروں کی حاضری سے بھی ممانعت ہوگی۔ اب دیکھیے کہ مساجد کی حاضری سے ممانعت بھی سب کے لیے ہے یا بعض کے لیے ؟ جب مسجدوں کی حاضری سے ممانعت سب کے لیے ہے تو قبروں کی حاضری سے ممانعت بھی سب کے لیے ہوگی۔
اب آپ اپنی منقولہ عبارت پر غور کیجئے۔ عبارت ہے لما فی خروجھن من الفساد(کیونکہ ان عورتوں کے نکلنے میں خرابی ہے(ظاہر ہے کہ یہ فساد و خرابی دنیا کی تمام عورتوں میں نہیں، صرف بعض میں ہے۔ تو معلوم ہوا کہ صاحبِ غنیہ فساد بعض ہی کے سبب سب کی حاضری کو ممنوع تیار ہے ہیں ، کیونکہ انہوں نے ممانعت مسجد سے استدلال کیا ہے جو سب کے لیے ہے۔ تو یہ حاضری قبر کی مما نعت بھی سب کے لیے ہوگی ۔ ایسا نہیں کہ ان کا ارشاد صرف فساد والیوں پر محدود ہے۔(۲)سب کو منع کرنے کا فائدہ حاصل ہوا، نہ کہ صرف فساد والیوں پر ان کا ارشاد محدود ہے۔