Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
38 - 53
سےاعلیٰ
باذنہ تعالیٰ(۱)
عنقریب آتا ہے، امام عینی نے یہاں اس سے تعرض نہ فرمایا(۲)، کہ اسی حدیث کے نیچے ڈیڑھ ہی ورق پہلے اپنے مذہب اور اپنے آئمہ کا ارشاد بتاچکے۔
   زیارت قبور کی عورتوں کو اس وقت اِجازت تھی جب مسجد میں ان کا جانا مُبَاح تھا
 (۱۰)عبارتِ غنیۃ کہ آپ نے نقل کی اس سے اوپر کی سطر دیکھئے کہ اجازت اس وقت تھی جب انہیں مسجدوں میں جانا مُباح تھا، اب مسجدوں کی ممانعت دیکھئے سب کو ہے یا زنانِ فتنہ گر کو ؟ اس کے ساتھ سطر بعد کی عبارت دیکھیے۔
یعضدہ المعنی الحادث باختلاف الزمان الذی بسببہ کرہ لھن حضور الجمع والجماعات الذی اشارت الیہ عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بقولھا لو ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رای مااحدث النساء بعدہ لمنعھن کما منعت نساء بنی اسرائیل واذا قالت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ھذا عن نساء زمانھا فماظنک بنساء زماننا۔(۳)
* سدِّ باب ہوجائے، ورنہ اسلامی شریعت کے احکام ٹھکرانے کا انجام اور بھی افسوسناک ہوسکتا ہے۔ خدا ہدایت دے اور حفاظت فرمائے ۔آمین

(۱)اللہ تعالیٰ کے حکم سے(یہ محاورہ کے طور پر استعمال ہوا قرآن و حدیث کی بات نہیں)

(۲)التفات نہ فرمایا (۳)اس کی تائید تبدیلی زمانہ سے پیدا ہونے والا معنیٰ کررہا ہے۔جس کے سبب عورتوں کے لیے جمعہ و جماعت کی حاضری مکروہ ہوئی، جس کی طرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے اس فرمان سے اشارہ کیا کہ اگر رسول اللہ   یہ حالت دیکھتے جو عورتوں نے ان کے بعد پیدا کرلی ہے تو انہیں روک دیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں، جب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے زمانے کی *
Flag Counter