ان کے اِس خیا ل سے دو (۳)شافی جواب گزرے ،اور تیسرا (۴)سب
(۱)(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج ۴ کتاب الایمان باب خروج النساء الی المساجد بااللیل والغلس ص ۶۴۶ مطبوعہ دارالحدیث ملتان پاکستان) (۲)میں نے کہا:معتمد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا،سب عورتوں میں خرابی نہیں پیدا ہوئی ہے۔(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج ۴ کتاب الاذان باب انتظار الناس قیام الامام العالم ص ۶۵۰ رقم الحدیث۔ ۸۶۹ مطبوعہ دارالحدیث ملتان پاکستان)(۳) ایک جواب تو یہ کہ دل کی صلاح و فساد پوشیدہ چیز ہے۔ کیا پتہ کس کے دل میں صلاح و درستی ہے، فساد نہیں۔ اور کس میں فساد و خرابی ہے صلاح نہیں۔ دوسرا جواب یہ کہ حضرت فاروق اعظم ، حضرت عبداللہ بن عمر اور ایک جلیل القدر تابعی رضی اللہ عنہم نے اپنے زمانہ اور اپنے گھر کی عورتوں کو روکا۔ جب دور صحابہ اور تابعین میں حالت بدل گئی ، اورعورت کو روکا گیا تو کیا اس زمانے کی عورتیں ان زمانوں کی خواتین سے بہترین ہیں کہ ان سے اندیشہ تھا، ان سے اندیشہ نہیں۔ جب وہ روکی گئیں تو انہیں تو بدرجہ اولیٰ روکا جائے گا۔(۴)تیسرا جواب یہ آرہا ہے کہ ہم نے مانا کہ عورت نیک و پارسا ہے، اس سے اندیشہ فتنہ نہیں، مگر فتنہ یہیں تک محدود نہیں فتنہ ایک اور ہے جو اس سے بھی سخت ہے۔ فاسقوں بدکاروں کی طرف سے عورت پر فتنے کا اندیشہ ہے۔جیسا کہ اس زمانے میں بھی تجربہ روزمرہ ہے)یہاں عورت کی نیکی و پارسائی کیا کام دے گی؟ اس فتنہ کا کیا علاج؟بہرحال عورت سے اندیشہ ہو یا عورت پر اندیشہ ہو دونوں خطرناک ہیں، لہذا ممانعت ضرور ہوگی۔ کاش ! اگر عورتیں احکام اسلام پر عمل پیرا ہو کر اندرونِ خانہ رہ کر اپنی پاک دامنی محفوظ رکھتیں تو بدمعاشوں ، آوارہ گردوں کو عصمت دری اور ظلم وستم کے یہ مواقع فراہم نہ ہوتے جن پر آج بار بار احتجاج ہورہا ہے، اور کوئی حل نظر نہیں آتا۔ خود عورتیں اپنے آپ کو اسلامی شریعت کے دائرے میں رکھیں تو بڑی حد تک اَمان اور بہت سے فتنوں کا *