| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
پھر اسی صفحہ پر عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا جمعہ کے دن عورتوں کو کنکریاں مار کر مسجد سے نکالنا اور امام اجل (۱) ابراہیم نخعی تابعی کا اپنے یہاں کی مَستورات کو جمعہ وجماعت میں نہ جانے دینا ذکر کیا کما تقدم عنایہ (۲)سے گزرا کہ امیر المومنین فاروق اعظم نے عورتوں کو حضور مسجد سے منع فرمایا:
عورتوں کے لیے زیارت قبور کی ممانعت اہم ہے
کیا مدینہ طیبہ کی وہ بیبیاں کہ صحابیات و تابعیات تھیں، اور ان امام اجل تابعی کی مستورات معاذ اللہ فتنہ گرو اہل فساد تھیں؟ حاشا، ہر گز نہیں، یاللعجب(۳) اگر صحابہ و تابعین کرام کو بھی کہا جائے، کہ سب کو ایک لکڑی ہانکا، اور مُتَّقِین (۴)وفجار کا فرق نہ کیا۔حاشا ثمّ حاشا ہم (۵)تو ثابت ہوا منع عام ہے، صرف فاسقات سے خاص نہیں، اور ان کا خصوصاً ذکر فرما کر زنانِ مصر کے خصائل (۶) گنانا اس لیے ہے کہ ان پر بدرجہ اولیٰ حرام ہے، نہ کہ فقط فتنہ اٹھانے والیوں کو ممانعت ہے، یا وہ بھی صرف مُغنیّہ و دلالہ کو۔ (۹) اسی نے آپ کی منقولہ عبارت عینی جلد چہارم کا مطلب واضح کردیا، کہ حکم یہ بیان فرمایا کہ اب زیارتِ قبور عورتوں کو مکروہ ہی نہیں، بلکہ حرام ہے، یہ نہ فرمایا کہ ویسی کو حرام ہے، ایسی کو حلال ہے، ویسی کو تو پہلے بھی حرام تھا، اس زمانہ کی کیا تخصیص، آگے فرمایا، ''خصوصاً زنانِ مصر'' اور اس کی تعلیل کی (۷)کہ ان کا خروج (۸)بروجہ فتنہ
* اب اہل زمانہ میں فساد اور برائی عام ہے (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج ۴ کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد رقم الحدیث ۸۶۴، دارالحدیث ملتان پاکستان ) (۱)بہت بڑے جلیل القدر(۲)جیسا کہ پیچھے کتاب عنایہ کے حوالے سے گزر (۳)اے عجیب بات کہنے والے(۴)پرہیزگاروں اور فاجروں ، بدعملوں کا(۵)ہرگز ہرگز وہ ایسے نہیں(۶)مصر کی عورتوں کی خصلتیں(۷)سبب بیان کیا(۸)نکلنا