Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
35 - 53
من خوف الفتنۃ(۱)
ہاں! جن سے وقوع ہورہا ہے، جیسے زنانِ مصران کے لیے حرام بدرجہ اولیٰ بتایا ہے کہ جب خوفِ فتنہ پر ہمارے آئمہ مطلقاً حکم حرمت فرماچکے تو جہاں فتنے پورے ہیں وہاں کاذکر کیا۔
عورتوں کی جماعت میں شمولیت مکروہ ہے
عبارت عینی یہ ہے:
قال صاحب الھدایۃ یکرہ لھن حضور الجماعات قالت شراح : (۲)ویعنی الشواب منھن وقولہ الجماعات یتناول الجمع والاعیاد والکسوف والا ستسقاء و عن الشافعی یباح لھن الخروج قال اصحابنا لان فی خروجھن خوف الفتنۃ وھو سبب للحرام ومایفضی الی الحرام حرام فعلی ھذا قولھم یکرہ مرادھم یحرم لا سیما فی ھذا الزمان لشیوع الفساد فی اھلہ(۳)
 (۱)عورتوں کے لیے جماعت کی حاضری مکروہ ہے، یعنی جو ان عورتوں کے لیے کیونکہ اس میں فتنے کا اندیشہ ہے۔(الھدایہ اولین کتاب الصلوۃ باب الامامۃ ص ۱۰۵ مطبوعۃ ضیاء القرآن پبلکیشیز پاکستان)(۲)یہاں اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : اقول لابل ھونفس نص الھدایۃ کما سمعت منہ غفرلہ ترجمہ: میں کہتا ہوں یہ بعض شارحین کا قول نہیں، بلکہ خود ہدایہ ہی کی عبارت ہے جیسا کہ سن چکے۔(۳)صاحب ہدایہ نے فرمایا عورتوں کے لیے ''جماعتوں'' کی حاضری مکروہ ہے، اس پر بعض شارحین نے کہا یعنی جوان عورتوں کے لیے، مصنف کا قول ''جماعتوں'' کی حاضری مکروہ ہے، اس پربعض شارحین نے کہا یعنی جوان عورتوں کے لیے مصنف کا قول ''جماعتوں'' جمعہ، عیدین ، کسوف یعنی سورج گہن کی نماز اور استسقاء یعنی طلب بارش کے لیے نماز و دعا سب کو شامل ہے، امام شافعی سے مروی ہے کہ عورتوں کے لیے جماعت میں آنا جائز ہے، ہمارے لوگوں نے کراہت کی دلیل یہ دی ہے کہ عورتوں کے نکلے میں فتنے کا اندیشہ ہے اور یہ نکلنا ایک حرام کام کا سبب ہے اور جو کام حرام تک پہنچانے والا ہو وہ حرام ہی ہے۔ اس کے پیش نظر مکروہ سے ہمارے علماء کی مراد ''حرام''ہے خاص کر اس زمانے میں، اس لیے کہ *
Flag Counter