| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
نہ زنانِ مصر سے حکم خاص ہے نہ مغنیہ ودلّالہ کی تخصیص، اس میں سولہ صنف فساد زنان تو بیان کیں، جن میں دویہ ہیں۔اور فرمایا۔''اور اس کے سوا اور بہت سے اَصناف قواعد شریعت کے خلاف ہیں''۔
حنفی علماء نے حکم مطلق رکھا ہے نہ کہ فساد فتنہ برپا کرنے والی عورتوں کے ساتھ خاص
اور بتایا کہ امّ المؤمنین اپنے ہی زمانہ کی عورتوں کو فرماتی ہیں کہ ان میں بعض امور حاد ث(۱)ہوئے، کاش ان حادثات کو دیکھتیں کہ جب ان کا ہزار واں حصہ نہ تھے۔ اپنی عبارت منقولہ سے ایک ہی ورق پہلے دیکھئے ، جہاں انہوں نے اپنے آئمہ حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مذہب نقل فرمایا ہے کہ حکم مطلق رکھا ہے، نہ کہ زنانِ فتنہ گر (۲)سے خاص، اور اس کی علّت خوفِ فتنہ (۳)بتائی ہے نہ کہ خاص وقوع (۴)،یہی بعینہ نصّ ہدایہ ہے(۵)۔
یکرہ لھن حضور الجماعات یعنی الشواب منھن لما فیہ
* انہوں نے حکم مسئلہ بیان کیا ہے وہاں سبھی عورتوں کے لیے ممانعت لکھی ہے، اور بتایا ہے کہ ممانعت کی وجہ یہی فتنے کا ''اندیشہ''ہے۔ یہ نہیں کہ بدکاری وفتنہ واقع ہو، جبھی ممانعت ہو، اور آپ نے علامہ عینی کی جو عبارت نقل کی ہے اس میں تو فساد و خرابی کے لحاظ سے عورتوں کی سولہ قسموں کا بیان ہے، جن میں دومغنیہ (گانے والی)اور دلالہ (درمیانی بن کر دو میں برائی یا برائی کا رابطہ پیدا کرنے والی )ہیں۔پھر بیان کیا کہ ان کے علاوہ اور بھی خلاف شرع قسمیں ہیں۔ آپ کی منقولہ عبارت میں یہ کہاں ہے کہ ممانعت صرف ان ہی فتنہ گر اور فساد والی عورتوں کے لیے خاص ہے؟(۱)نئے کام جو پیدا ہوئے یعنی زیب و زینت اور بے پردگی وغیرہ (۲)فتنہ پیدا کرنے والی عورتیں(۳)وجہ ، فتنہ کا خوف(۴)واقع ہونا (۵)اسی طرح واضح بات ہدایہ کی ہے۔