Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
33 - 53
طرف حِلّت  (۱)کا خیال جمے، اسے کھانا بھی حرام نہ کہ دس ہزار میں ایک۔

دُرَّمختار میں ہے۔
تعتبرالغلبۃ فی اوان طاھرۃ ونجسۃ وذکیتۃ ومیتۃ وذکیتۃ ومیتۃ فان الاغلب طاھراً تحری وبالعکس والسوآء لا ۔(۲)
ہاں!ایک حلال جدا ممتاز معلوم ہو تو کثرت حرام سے اس پر کیا اثر، مگر یہاں (۳)سن چکے، فساد و صلاح قلبِ مضمر وتمییز متعذر نامُیَسّردِرمنتقیٰ کی عبارت ابھی گزری، پھر غلبہ فساد مُتَیَقَّنْ ، تو قطعاً مطلقاً حکمِ ممانعت مُتعین ، جیسے وہ بیسوں ہزار بریانیاں سب حرام ہوئی، حالانکہ ان میں یقیناً دس ہزار حلال تھیں، یہی مسلک  (۴)علمائے کرام چلے۔

(۸) عینی شرح بخاری جلد سوم کی عبارت آپ نے نقل کی، اس (۵)میں
 (۱)حلال ہونے کا ۔(۲)پاک و ناپاک برتنوں اور مردار و ذبح کیے ہوئے جانوروں میں غلبہ کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر اکثر پاک ہوں تو تحری کرے اور جدھر دل جمے کہ یہ پاک ہے اسے استعمال کرے، لیکن اگر اکثر ناپاک ہوں یا دونوں برابر ہوں تو تحری نہ کرے، کیونکہ ان دونوں صورتوں میں سب ناپاک قرار دیئے جائیں گے۔(الدردالمختار ج ۹ کتاب الحظروالاباحۃ ص ۵۷۳ مطبوعۃ دارالمعرفۃ بیروت) (۳)یہاں یہ حال نہیں کہ کسی ایک کا اندیشہ فتنہ سے مامون و محفوظ ہونا قطعی طور پر معلوم ہو، یہاں تو ساری عورتوں کے بارے میں کلام ہے۔کس کے دل میں کیا ہے کچھ پتہ نہیں ۔دل کی اچھائی ، برائی تو پوشیدہ چیز ہے۔ یہاں تو ساری عورتوں کے بارے میں کلام ہے۔ کس کے دل میں کیا ہے کچھ پتہ نہیں، دل کی اچھائی ، برائی تو پوشیدہ چیز ہے، اور امتیاز مشکل و دشوار ، تو یہاں اس چیز پر قیاس کیسے ہوسکتا ہے ، جس کا الگ ممتا ز طور پر حلال ہونا قطعاً معلوم ہے۔ پھر جب اکثر عورتوں میں فساد و خرابی کا ہونا یقینی ہے، تو اصولِ شریعت کے مطابق ممانعت ہی متعین ہے، جیسے دس ہزار بریانیوں میں دس ہزار ناپاک بریانیاں مل جائیں، اور پتہ نہ چلے کہ کون پاک ہے، کون ناپاک ، تو بیسوں ہزار حرام ہیں۔(۴)طریقہ، راستہ(۵)(فاضل سائل نے علامہ محمود عینی حنفی کی کتاب عمدۃ القاری شرح بخاری کی ایک عبارت نقل کرکے یہ استدلال کرنا چاہا تھا کہ ممانعت صرف ان فاسقہ عورتوں کے لیے ہے سب کے لیے نہیں، امام احمد رضا علیہ الرحمۃ اس کے جواب میں فرمارہے ہیں کہ عینی میں ممانعت فاسقہ عورتوں کے ساتھ خاص نہیں کی ہے۔ اپنی نقل کی ہوئی عبارت سے ایک صفحہ پہلے دیکھئے جہاں *
Flag Counter