Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
32 - 53
وسوم  (۱)کی عبارات گزریں، درمختار میں دربارہ دوم  (۲)ہے۔
فی زماننا لا شک فی الکراھۃ(۳)
کافی وجامع الرموز و ردّالمحتار میں دربارۀ اخیر  (۴)ہے۔
ھو حرام و کبیرۃ عندنا وفی اباحتہ اعانۃ الشیطان علی الاسلام والمسلمین(۵)
فقیہ کا حکم غالب کے اعتبار پر ہوتاہے
            فقیہ کا حکم غالب کے اعتبار پر ہوتاہے
   * یاد دلاتی ہے، یہ بھی ان قیدیوں کے ساتھ کہ بے صبری، آہ وزاری وغیرہ ممنوعات کا اِرتکاب نہ کریں اور جہاں ناجائز کہا گیا تو زمانہ اور عورتوں کے عمومی حالات پر نظر کرتے ہوئے اور فقہی حکم اکثر ہی کے لحاظ سے ہوتا ہی، تو فتویٰ اسی پر ہوگا کہ عورت کے لیے زیارت قبور کو جانا مطلقاً ناجائز ہے۔(۱)پہلی اور تیسری (۲)دوسری یعنی دخول زناں بہ حمام کے بارے میں (۳)ہمارے زمانے میں اس کے مکروہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں (الدرالمختار ج ۹ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ص ۸۸ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت) (۴)آخری یعنی لعبِ شطرنج کے بارے میں(ردالمحتار ج ۹ کتاب الحظر والا باحۃ باب الاستبراء وغیرہ فصل فی البیع ص ۶۵۰ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت) (۵)ہمارے نزدیک تو شطرنج کھیلنا حرام و گناہ کبیرہ ہے ، اور اسے جائز رکھنے میں شیطان کو اسلام اور مسلمان کے خلاف مدد دینا ہے۔(۶)شرعی طور پر ذبح کیے ہوئے۔(۷)ایک دوسرے سے ملا ہوا خلط ملط (۸)خوب غورو حوض۔
Flag Counter