(۱)اصل مسئلہ کا جائز ہونا اس کا اصل حکم ہے اور منع کرنا عارضی غالب وجہ سے تو فتوی مطلق منع کرنے پر ہی ہوگا فقہ کی کتاب میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں کہ قیدوں کی رعایت کرتے ہوئے جائز ہونے کا حکم اور اس کے صحیح ہونے کی بھی کتابوں میں وضاحت اور زمانہ کی حالت پر نظر کرتے ہوئے علماء کا منع کرنا مطلقاً(سب کو شامل )ہے۔(۲) (جوارِ حرم ، حرم پاک میں سکونت کا حکم ، فتح القدیر کی عبارت سے گزرا کہ یہ اکثر لوگوں کے احوال کی بنیاد پر ناجائز ہے، کیونکہ عموماً زیادہ دن رہنے کے بعد حرم کی کما حقہ تعظیم و توقیر نہ کرپائیں گے۔ غافل ہو کر خطا بھی کر بیٹھیں گے۔ نتیجۃ ثواب ضائع گناہ لازم اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ فرمایا کہ اگر آئمہ کرام ہمارے زمانے میں ہوتے اور ہمارا حال ان پر کھلتا تو وہ تمام حضرات بلا اختلاف سکونتِ حرم کو صاف صاف حرام کہتے ۔
(۳)شہروں میں عام لوگوں کے نہانے کے لیے گرم پانی وغیرہ کے انتظام کے ساتھ مکانات بنے ہوتے ہیں، جنہیں حمام کہتے ہیں ، انہی حماموں میں عورتوں کا نہانا ناجائز کہا گیا، کیونکہ وہاں بے پردگی کا لازمی اندیشہ بلکہ اکثری وقوع ہے، یہاں بھی اکثر ہی کے لحاظ سے عام حکم کردیا گیا۔ اس بارے میں آگے درمختار کی عبارت ہے۔(۴)نفقہ طالب علم ، باپ پر بالغ طالب علم فرزند کا نفقہ واجب ہے یا نہیں؟ اس سے متعلق درمنتقی کی عبارت گزری ، جس میں اکثر ہی کے حالات کی بنیاد پر حکم جاری کیا گیا ہے۔(۵)شطرنج کھیلنا بعض لوگوں نے اس لحاظ سے اس کو جائز کہا کہ اس سے باریک بینی و دور اندیشی پیدا ہوتی ہے۔ جنگی داؤں سمجھنے اور چلانے میں مدد ملتی ہے، یہ حکم بھی اس شرط و قید کے ساتھ کہ اس میں ہار جیت نہ ہو، کوئی نماز وقت سے مؤخرنہ ہو فحش گوئی اور کسی ممنوع چیز کا ارتکاب نہ ہو، ہمارے آئمہ کرام نے احادیث کریمہ اور حالاتِ اکثر کے پیش نظر یہی حکم دیا کہ شطرنج مطلقاً حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ فاضل بریلوی قدس سرہ نے اس سے متعلق کافی ، جامع الرموز اور ردالمختار کی عبارت پیش کی۔ حاصل کلام یہ کہ حکم فقہ باعتبار اکثر ہوتا ہے اور جہاں عورتوں کے لیے زیارت قبور کو جائز کہا گیا ہے تو اکثر ی حالات و عوارض کے پیش نظر نہیں بلکہ صرف اس پر نظر کرتے ہوئے کہ قبروں کی زیارت اچھی چیز ہے، دنیا سے بے رغبت کرتی ہے، آخرت کو*