(۶)حکمِ کُتب میں توفیق (۳)بہت واضح ہے، جواز نفسِ مسئلہ کافی ذاتہ
(۱)ممانعت کا تنزیہی ہونا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ پاک سے خاص ہونا چاہیے جبکہ عورتوں کے لیے مسجدوں، عیدین وغیرہ میں حاضر ہونا جائز تھا، اور ہمارے زمانے میں تو مکروہ تحریمی (حرام کے قریب)ہونا مناسب ہے۔(غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی المشتہربالحلبی الکبیر فصل فی الجنائزالبحث الخامس ص ۵۹۴ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور)
(۲)اکثر علماء نے تو نمازوں کے لیے عورتوں کا نکلنا مکروہ رکھا، تو قبرستانوں کو جانے کا کیا حال ہوگا؟ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ عورتوں سے فرض جمعہ ساقط ہوجانا، اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اس کے علاوہ سے بھی روکا جائے گا۔(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج ۶ کتاب الجنائز باب زیارۃ القبور ص ۹۵ رقم الحدیث ۱۲۸۳ مطبوعہ دارالحدیث ملتان پاکستان) (۳)(یہ ایک سوال کا جواب ہے کہ فقہ کی بعض کتابوں میں عورتوں کے لیے زیارت قبور کو جائز بتایا گیا ہے ۔ اور بعض میں ناجائز تو دونوں میں مطابقت کیسے ہوگی؟ ایک عمدہ تطبیق تو (۱۴)کے تحت آرہی ہے یہاں (۶)میں یہ فرمارہے ہیں کہ تطبیق اس طرح ہے کہ حالات و عوارض سے قطع نظر خود مسئلہ زیارت قبر کو دیکھئے تو زیارتِ عورت کے لیے بھی جائز ہے، لیکن عورتوں اور زمانہ کے حالات و عوارض پر نظر کیجئے تو ناجائز ہے۔ اور یہ عوارض ایسے ہیں جو اکثر و بیشتر پائے جاتے ہیں۔ شاذو نادر ان سے محفوظ رہنے کی صورت ملتی ہوگی۔لہذا فقہی حکم یہی ہوگا کہ عورتوں کے لیے (سوائے زیارت روضئہ انور کے دیگر )مزارات کی حاضری ناجائز ہے کیونکہ فقہ کا حکم اکثر ہی کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں کہ فقہی کتابوں میں خاص قیدیوں کے ساتھ کسی امر کو جائز لکھا گیا اور اس حکم جواز کو اہلِ تصحیح نے بعد کی کتابوں میں صحیح درست بھی بتایا۔ مگر حالات زمانہ دیکھ کر علماء نے اس امر سے مطلقاً ممانعت فرمائی۔مصنف علیہ الرحمۃ نے یہاں اس کی چند مثالیں صراحۃ گنائی ہیں۔