سے قطع نظر کرکے تسلیم کیجئے کہ ہاں عورتوں کو بھی شامل ہوئی، مگر جس قدر اوّل(۴) کی عورتوں کو جن میں حضور مساجد و جمعہ وعیدین کی اجازت بلکہ حکم تھا، جب زمانۀ فساد آیا، اِن ضروری تاکیدی حاضریوں سے عورت کو ممانعت ہوگئی، تو اس سے یقینا بدرجہ اولی۔
اسی غنیۃ کے اسی ص ۵۹۵ میں اسی آپ کی عبارت منقولہ سے پہلے اس کے متصل ہے۔
ینبغی ان یکون التنزیہ مختصابزمنہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حیث کان یباح لھن الخروج للمساجد والا عیاد
(۱)ترجمہ:اگرآئمہ ہمارے زمانے میں ہوتے اور ہماری حالت کی انہیں تحقیق ہوجاتی تو وہ بھی صراحۃً حرام کہتے(شرح اللباب مع ارشاد الساری فصل اجمعوا علی۔۔۔۔۔۔النخ ص ۳۵۲ دارالکتاب العربی بیروت) ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ ارشاد اسی'' جوارحرم'' کے مسئلہ سے متعلق ہے۔ سکونت حرمین کے بارے میں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کا مفصل عربی رسالہ صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین دیکھنا چاہیے۔ یہ فتاویٰ رضویہ جلد چہارم میں شامل ہے۔(۲)بالکل منع(۳)اللہ قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر لعنت کرے)(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج ۶ کتاب الجنائر باب زیارۃ القبور ص ۹۵ رقم الحدیث ۱۲۸۳ مطبوعہ دارالحدیث ملتان پاکستان )(۴)یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک کی (۵)ملا ہوا