لو کانت الائمۃ فی زماننا و تحقق لھم شاننا لصرحوا
* الحج باب الھدی مطلب فی المجاورۃ بالمدینہ المشرفۃ و مکرمۃ ص ۶۵ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت)صاحب الدر المختار علماء الدین محمد بن علی حصکفی نے فرمایا تھا۔لاتکرہ المجاورۃ بالمدینۃ وکذا بمکۃ لمن یثق بنفسہ (الدرالمختار ج ۴ کتاب الحج فی آخر باب ص ۶۴ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت )مدینہ میں سکونت اختیار کرنا مکروہ نہیں، یوں ہی مکہ میں، اس کے لیے جو اپنے نفس پر بھروسہ رکھتا ہو، اسی عبارت کے پیش نظر درمختار کے تینوں حشی علماء سادات نے فتح القدیر کی مذکورہ بالا عبارت نقل کرکے فرمایا کہ جب نفس کا یہ حال ہے تو اس کا کیا بھروسہ؟ لہذا سکونتِ حرم کو صاف صاف مکروہ کہا جائے گا۔
(۱)ترجمہ:رہے وہ جو ان کے برخلاف ہیں تو اس زمانے میں وہ نادر ہیں لہذا ان کے لیے کوئی الگ حکم نہ ہوگا کیونکہ یہ امتیاز کرنا دشوار ہے مصلح کون ہے اور مفسد کون؟(متقی شرح المتقی علی ھامش مجمع الانہر ج ۱ کتاب النکاح فصل نفقۃ الطفل الفقیر ص ۵۰۰ دارالاحیاء التراث العربی بیروت)یہ عبارت نفقۀ طالب علم سے متعلق ہے۔ باپ پر نادار نابالغ اولاد کا نفقہ واجب ہے۔ یوں ہی ان نابالغ اولاد کا جو کمانے سے عاجز ہوں۔ اگر کوئی بالغ فرزند ایسا ہے جو کمانے پر قادر ہے۔ مگر طالبِ علم دین میں مشغول ہے تو اس کا خرچ باپ پر واجب ہے یا نہیں؟ بعض نے کہا واجب ہے بعض نے کہا نہیں ہے، جن علماء نے واجب کہا انہوں نے یہ قید لگادی ہے کہ وجوب اس صورت میں ہے جب طالب علم فرزند نیک سیرت اور واقعی '' طالب علم''ہو۔ ورنہ اس کا نفقہ باپ پر واجب نہیں۔ صاحب منیہ وقنیہ وصاحب مثقیٰ فرماتے ہیں کہ اکثر طلبہ رشد و صلاح والے نہیں۔ اور حکم اکثر ہی کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ لہذا مطلقا کہا جائے گا کہ باپ پر طالب علم کا نفقہ واجب نہیں، فاضل بریلوی کا استدلال بس اتنے ہی سے ہے کہ حکم باعتبار اکثر ہوا کرتا ہے رہا یہ کہ دور حاضر میں حکم کیا ہونا چاہیے تو راقم کے خیال سے اس میں تحقیق وتفصیل کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اب طلبہ کی کئی قسمیں اور مختلف حالتیں ہیں۔ یوں ہی اب علم دین کے لیے حالات زمانہ بھی مختلف ہیں۔