Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
27 - 53
اِمام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں۔
الفائز بھذا مع السلامۃ اقل قلیل فلایبنی الفقہ باعتبار ھم ولا یذکر حالھم قیدا فی الجواز لان شان النفوس الدعوی الکاذبۃ وانھا لا کذب مایکون اذاحلفت فکیف اذا ادعت۔(۱)
ساداتِ ثلاثہ علامہ حلبی وعلامہ طحطاوی و علامہ شامی فرماتے ہیں:
وھو وجیہ فینص علیٰ الکراھۃ ویترک التقییدبالتوثیق(۲)
 (۱)بسلامت اسے پانے اور کامیاب ہونے والے کم سے کم تر ہیں۔ توفقہ کی بنیاد ان کے اعتبار پر نہ ہوگی، نہ ان کا حال قید جواز بنا کر ذکر ہوگا۔ کیونکہ نفس کا کام ہی ہے جھوٹا دعوی کرنا، اور یہ سب سے بڑا جھوٹا اس وقت ہوتا ہے جب قسم کھائے، تو جب یہ محض دعوی کرے اس وقت کیا حال ہوگا؟ (فتح القدیر جلد ۳ ص ۹۴ کتاب الحج مسائل منثورہ المقصد الثانی فی المجاورۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر)علامہ کمال الدین ابن الہمام علیہ الرحمۃ کی عبارت ''حرم پاک میں سکونت''سے متعلق ہے۔ مکہ مکرمہ میں نیکیوں کا اجر بے پناہ ہے مگر گناہوں کا وبال بھی بڑا سخت ہے۔ حرم پاک کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام بھی واجب ہے، اور کسی گناہ کا ارادہ بھی خطرناک ہے، ان سب کے پیش نظر علماء کو اس میں اختلاف ہوا کہ بیرون حرم کا آدمی اگر حرم پاک میں سکونت اختیار کرنا چاہے تو کیا حکم ہے؟ بعض شافعیہ نے بیان کیا کہ مستحب ہے۔ البتہ اگر گناہ میں پڑنے کا ظن غالب ہو تو نہیں۔ یہی امام ابویوسف و امام محمد کا مذہب ہے امام اعظم اور امام مالک کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ صاحب ِ فتح القدیر نے اقوال آئمہ و علماء اور احادیث ثواب و عقاب لکھنے کے بعد فرمایا:ہاں اللہ کے کچھ نیک، برگزیدہ ، مخلص بندے ایسے ہیں جو سکونتِ حرم کے اہل اور حسنات وصلوات کے اضافہ کی فضیلت اس احتیاط کے ساتھ حاصل کرنے والے ہیں کہ ان سے کوئی ایسی بات نہ ہو، جس سے ان کی نیکیاں برباد ہوجائیں، اس عبارت کے بعد فرمایا: مگر ایسے لوگ کم سے کمتر ہیں الخ۔ فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ کا اس عبارت سے استدلال یہ ہے کہ فقہی احکام میں غالب واکثر کا لحاظ ہوتا ہے کیونکہ دل کی اچھائی یا برائی پوشیدہ چیز ہے۔ اور نفس جو صلاح و نیکی اور خطرات کو بسلامت عبور کرلینے کا مدعی ہو سخت جھوٹا ہے۔ 

(۲)اور یہ کلام وجیہ اور عمدہ ہے، تو صاف مکروہ ہونا کہا جائے گا اور اپنے اوپر اعتماد کی قید(لگاکر غیر مکروہ بتانا)چھوڑ دیا جائے گا۔(ردالمختار ج ۴ کتاب*
Flag Counter