Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
25 - 53
خرابی کے اسباب کو دور کرنا اہم ہے
 (۴)شرع طہر کا قاعدہ ہے کہ َجلبِ مصلحت (۱)پر سلب مفسدہ(۲)،کو مقدم رکھتی ہے۔
درع المفاسد اھم من جلب المصالح (۳)
جب کہ مفسدہ (۴)اس سے بہت کم تھا، اس مصلحتِ عظیمہ سے آئمہ دین امامِ اعظم وصاحبین (۵)ومن بعدھم (۶)نے روک دیا اور عورتوں کی مِسلیں (۷) نہ بنائیں کہ صالحات جائیں۔ فاسقات نہ آئیں  بلکہ ایک حکم عام دیا، جسے آپ ایک پھانسی میں لٹکانا فرمارہے ہیں، کیا انہوں نے یہ آیتیں نہ سنی تھیں۔
اَفَمَنۡ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ  ۫  اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیۡنَ کَالْفُجَّارِ ﴿۲۸﴾ (9)
 (۱)خوبی پیدا کرنے والی چیز لانا، خوبی کا سبب حاصل کرنا(۲)برائی کا سبب دور کرنا (۳)ترجمہ: خرابی کے اسباب دورکرناخوبی کے اسباب لانے سے اہم ہے(الاشباہ والنظائر ص ۷۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت )(۴)خرابی کا سبب(۵)(امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو خاص شاگرد ہیں جو مسلک حنفی کے امام بھی ہیں (۱) امام قاضی ابو یوسف یعقوب (۲) امام محمد بن الحسن شیبانی ، امام محمد نے امام ابو یوسف سے بھی علم حاصل کیا ہے، اس لیے ان کے استاذ امام اعظم اور امام ابویوسف دونوں حضرات ہیں۔جب امام ابویوسف اور امام محمد کو ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں تو انہیں انہیں ''صاحبین'' کہتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات امام صاحب کے شاگرد ہونے کی نسبت سے آپس میں ساتھی ہیں۔ اور جب امام اعظم اور امام ابویوسف کو ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں تو ''شیخین'' کہتے ہیں کیونکہ امام محمد کی بہ نسبت یہ دونوں حضرات شیخ اور استاذ ہیں۔ اور جب امام اعظم اور امام ابویوسف درمیانی حیثیت کے حامل ہیں کہ ایک طرف امام اعظم کے شاگرد ہیں، تو دوسری طرف امام محمد کے استاذ اور امام اعظم دونوں حضرات کے لحاظ سے استاذ ہی ہیں۔ اور امام محمد دونوں حضرات کے لحاظ سے شاگرد ہی ہیں۔(۶)اور جوان کے بعد ہیں(۷)گروہ(۸)ترجمہ: تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بے حکم ہے(سجدہ /۱۸)(۹)(یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بے حکموں کے برابر ٹھہرادیں (ص /۲۸)
Flag Counter