Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
24 - 53
وقال ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ المراۃ عورۃ واقرب ماتکون الی اللہ فی قعربیتھا فاذا خرجت استشرفھاالشیطان وکان ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما یقوم یحصب النساء یوم الجمعۃ(۱)
جب ان خیر کے زمانوں ، ان عظیم فیوض و برکات کے وقتوں میں عورتیں منع کردی گئیں، اور کاہے(۲)سے؟ حضور مساجد و شرکت جماعات (۳)سے ! حالانکہ دین متین میں ان دونوں کی شدید تاکید ہے۔ تو کیا اِن ازمنَہ شرور(۴) میں ان قلیل یا موہوم (۵)فیوض کے حیلے سے عورتوں کو اجازت دی جائے گی؟ وہ بھی کاہے کی؟ زیارتِ قبور کو جانے کی! جو شرعاً مؤکد (۶)نہیں۔ اورخصوصاً ان میلوں ٹھیلوں میں جو خدانا ترسوں (۷)نے مزاراتِ کرام پر نکال رکھے ہیں،یہ کس قدر شریعت مطہرہ سے منافقت (۸)ہے۔
 (۱)ترجمہ:یعنی حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:عورت سراپا شرم کی چیز ہے، سب سے زیادہ اللہ عزوجل سے قریب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے۔ اور جب باہرنکلے شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے۔ اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے دن کھڑے ہو کر کنکریاں مار کر عورتوں کو مسجد سے نکالتے اور امام ابراہیم نخعی تابعی استاذ الاستاذ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اپنی خواتین کو جمعہ وجماعت میں نہ جانے دیتے۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج ۴ کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد بااللیل والنعلس ص ۶۴۷ رقم الحدیث ۸۶۵ مطبوعہ دارالحدیث ملتان پاکستان) (۲)کس چیز سے(۳)مسجدوں میں حاضر ہونے اور جماعت میں شریک ہونے(۴)خرابیوں اور برائیوں کے ان زمانوں میں (۵)صرف خیالی(۶)ضروری(۷)اللہ سے نہ ڈرنے والوں(۸)مخالفت
Flag Counter