فاحتج بہ علماء ناومنعواالشواب عن الخروج مطلقاً واما العجائز فمنعھن ابوحنیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن الخروج فی الظھروالعصردون الفجر والمغرب والعشاء والفتویٰ الیوم علی کراھۃ حضورھن فی الصلوات کلھا لظھور الفساد(۳)
اسی عینی جلد سوم میں آپ کی عبارت منقولہ (۴)سے ایک صفحہ پہلے ہے۔
(۱)ان کے الفاظ یہ ہیں۔(۲)وہ فرماتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورتوں کو مسجد جانے سے روک دیا، وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس شکایت لے کرگئیں، انہوں نے فرمایا: اگر نبی کریم یہ دیکھتے جو حضرت عمر نے دیکھا تو وہ بھی تمہیں مسجد جانے کی اجازت نہ دیتے ۔
(۳)ترجمہ: اس سے ہمارے علماء نے استدلال کیا، اور جوان عورتوں کو نکلنے سے مطلقاً منع فرمادیا۔رہیں بوڑھیاں تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ظہروعصرمیں نکلنے سے منع کیا۔ فجر و مغرب اور عشاء سے نہیں، مگر آج فتویٰ اس پر ہے کہ بوڑھیوں کی حاضری بھی تمام نمازوں میں مکروہ ہے، کیونکہ اب فساد نمایاں ہے۔
(الغایہ علی ھاش فتح القدیر ج ۱ ب الامامۃ تحت قولہ وکرہ لھن حضور الجماعات ص ۳۱۷۔۳۱۸ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان) (۴)نقل کی گئی