اگر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انہیں مسجد سے منع فرمادیتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔
پھر تابعین ہی کے زمانہ سے آئمہ نے ممانعت شروع فرمادی پہلے جَو ان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی، پہلے دن میں پھر رات کو بھی ، یہاں تک کہ حکمِ ممانعت عام ہوگیا۔ کیا اس زمانے کی عورتیں گر بے والیوں کی طرح گانے ناچنے والیوں یا فاحشہ دلالہ تھیں، اب صالحات ہیں؟ یا جب فاحشات زائد تھیں، اب صالحات زیادہ ہیں؟ یا جب فیوض وبرکات نہ تھے ، اب ہیں؟ یا جب کم تھے اب زائد ہیں؟ حاشا بلکہ قطعاً یقینا اب معاملہ بالعکس ہے۔ اب اگر ایک صالحہ ہے ، تو جب ہزار تھیں، جب اگر ایک فاسقہ تھی تو اب ہزار ہیں۔ اب اگر ایک حصہ فیض ہے، جب ہزار حصے تھا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔