Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
22 - 53
اگر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انہیں مسجد سے منع فرمادیتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔

پھر تابعین ہی کے زمانہ سے آئمہ نے ممانعت شروع فرمادی پہلے جَو ان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی، پہلے دن میں پھر رات کو بھی ، یہاں تک کہ حکمِ ممانعت عام ہوگیا۔ کیا اس زمانے کی عورتیں گر بے والیوں کی طرح گانے ناچنے والیوں یا فاحشہ دلالہ تھیں، اب صالحات ہیں؟ یا جب فاحشات زائد تھیں، اب صالحات زیادہ ہیں؟ یا جب فیوض وبرکات نہ تھے ، اب ہیں؟ یا جب کم تھے اب زائد ہیں؟ حاشا بلکہ قطعاً یقینا اب معاملہ بالعکس  ہے۔ اب اگر ایک صالحہ ہے ، تو جب ہزار تھیں، جب اگر ایک فاسقہ تھی تو اب ہزار ہیں۔ اب اگر ایک حصہ فیض ہے، جب ہزار حصے تھا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
لایاتی عام الاوالذی بعدہ شرمنہ(۲)
بلکہ عنایئہ اِمام اکمل الدّین بابرتی میں ہے کہ امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورتوں کو مسجد سے منع فرمایا۔ وہ امّ المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ عنھا کے پاس شکایت لے گئیں۔ فرمایا، اگر زمانہ اقدس میں حالت یہ ہوتی تو حضور صلی اللہ  علیہ وسلم
* کراچی، پاکستان، صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المساجد ص ۲۳۴ رقم الحدیث ۴۴۵ مطبوعہ دارابن حزم بیروت ، سنن ابی داؤد ج ۱ کتاب الصلوۃ باب التشدید فی ذالک ص ۲۳۵ رقم الحدیث ۵۶۹ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت )

(۱)اُلٹا ، پہلے کے برخلاف (۲)ترجمہ یعنی ہر بعد والا سال پہلے سے برا ہوگا۔(شعب الایمان للبیھقی ج ۲ ص ۴۶۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
Flag Counter