| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
چہ رات ہو، وعظ سے مقصود تو صرف اخذ فیض وسماع امربالمعروف و نہی عن المنکر و تصحیح عقائد و اعمال ہے(ا)کہ توجہ مشیخت (۲)سے ہزار درجہ اہم واعظم اور اس کی اصل مقدم ہے اس کا فیض بے توجہ مشخیت بھی عظیم مفید ودافع ہر ضررشدید ہے۔اور یہ نہ ہو تو توجہ مشیخت کچھ مفید نہیں، بلکہ ضرر سے قریب، نفع سے بعید ہے کیا امام اعظم و امام ابویوسف وامام محمد وسائر آئمہ مابعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فیض حقیقت اقدس سے روکنے والا اور معاذ اللہ
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوا نُوْرَ اللہ ِ باَفوا ھِھِم(3)
میں داخل مانا جائے گا۔حَاشَا یہ اطبَّائے قلوب ہیں، مصالح شرع جانتے ہیں۔(۴)
حضرت عائشہ اور تابعین کی طرف سے عورتوں کے لیے مسجد میں آنے کی ممانعت
(۲)صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن ابوداؤد میں امّ المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ارشاد اپنے زمانہ میں تھا۔
لوادرک رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل(۵)
(۱)فیض لینا، نیکی کا حکم، اور برائی کی ممانعت سننا، عقیدہ و عمل صحیح کرنا۔(۲)پیری کی توجہ (۳)چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے منہ سے بجھادیں(کنزالایمان پ ۱۰ ع ۱۱ توبہ آیت ۳۲) (۴)عقائدواعمال کی اصلاح کا فیض شیخ کی توجہ کے بغیربھی عظیم فائدہ مند اور شدید نقصان کو دور کرنے والا ہے اور یہی نہ ہو تو شیخ کی توجہ کچھ فائدہ نہیں دے سکتی بلکہ نقصان سے قریب اور فائدہ سے دور ہے ورنہ کیا امام اعظم اور امام ابویوسف اور امام محمد اور تمام ان کے بعد کے آئمہ کو حقیقی مقدس فیض سے روکنے والاا ور معاذ اللہ اس آیت کہ ''ترجمہ'' تو خدا کا نور اپنے منہ سے بجھانا چاہتے ہیں میں داخل مانا جائے گا؟ بلکہ یہ حضرات تو دلوں کے طبیب ہیں اور شریعت کی مصلحتوں کو جاننے والے ہیں۔(۵)صحیح البخاری ج ۱ کتاب الاذان، باب انتظار الناس قیام الامام العالم ص ۱۲۰ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ *