درمختار کی عبارت آپ سے مخفی نہ ہوگی کہ،
یکرہ حضورھن الجماعۃ ولو لجمعۃ وعیدووعظ مطلقاً ولو عجوز الیلا علی المذھب المفتی بہ لفساد الزمان(۵)
اسی طرح اور کتب مُعتمدہ(۶) میں ہے۔ آئمہ دین نے جماعت وجمعہ وعیدین درکنار ''وعظ کی حاضری ''سے بھی مطلقاً منع فرمادیا (۷)۔ اگرچہ بڑھیا ہو، اگر
(۱)اللہ کی بندیوں کو، اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔(صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المسجد ص ۳۳۳ رقم الحدیث ۴۴۲ مطبوعہ دارابن حزم بیروت) (۲)صحیح بخاری ج ۱ کتاب الجمعہ باب ھل علی من لم یشھدالجمعۃ ص ۱۲۳ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی پاکستان(۳)یعنی عورتوں کا حاضرہونا واجب اور انہیں مسجد میں آنے سے روکنا حرام ہے(۴)یہ بات(۵)ترجمہ:فساد زمانہ کے باعث جماعت میں عورتوں کی حاضری مطلقامکروہ (تحریمی و ناجائز )ہے ۔اگرچہ بڑھیا کی حاضری شب ہی کوہو، یہ اس مذہب کے مطابق ہے جس پر فتویٰ ہے(الدرالمختار ج ۲ کتاب الصلوۃ باب الامامۃ ص ۳۶۷ مطبوعہ دارالمعرفتۃ بیروت(۶)معتبر، قابل اعتماد(۷)ان عورتوں کے لیے جو کامل پردہ نہ کریں، جیسا کہ اعلحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اس کا وعظ و بیان صحیح و مطابق شرع ہو اور جانے میں پوری احتیاط اور کامل پردہ ہو اور مجلس رجال سے دور، ان کی نشست ہو تو حرج نہیں۔۔۔۔۔۔النح(فتاویٰ رضویہ ج ۱۰ کتاب الخطروالا باحۃ ۵ نظر ومَس ص ۱۱۲ مکتبہ رضویہ)