| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
اور میں اتنا اور زائد کرتا ہوں کہ صرف یہی نہیں بلکہ نساء کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عیدین کی سخت تاکید فرمائی۔ یہاں تک حکم فرمایا کہ برکت جماعت و دعائے مسلمین لینے کو حیض والیاں بھی نکلیں، مصلے (۱)سے الگ بیٹھیں، پردہ نشین کنواریاں بھی جائیں، جس کے پاس چادر نہ ہو، ساتھ والی اسے اپنی چادر میں لے لے۔ صحیحیں میں امَّ عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے ہے۔
امرناان نخرج الحیض یوم العیدین وذوات الخدور فیشھدن جماعۃ المسلمین ودعوتھم ویعتزل الحیض عن مصلا ھن قالت امراۃ، یارسول اﷲ احدانا لیس لھا جلباب قال لتلبسھا صاحبتھا من جلبابھا
حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حکم کہ عورتوں کو مسجد سے نہ روکو :
اور یہ صرف عیدین میں امر (۳)ہی نہیں بلکہ مساجد سے عورتوں کو روکنے سے مطلقاً نہی(۴) بھی ارشا د ہوئی کہ اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، مسند امام احمد و صحیح مسلم شریف میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے ہے۔ رسول
(۱)نماز کی جگہ(ترجمہ):ہمیں حکم دیاگیا کہ ہم حیض والیوں کو عیدین کے دن نکالیں۔ اور پردہ نشین عورتوں کو بھی ساتھ لے جائیں تاکہ یہ بھی مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعا میں شریک ہوں۔ اور حیض والیاں ان کی نماز گاہ سے کنارے رہیں ، ایک عورت نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم!ہم میں کوئی ایسی بھی ہے جس کے پاس چادریں نہیں ، فرمایا اس کے ساتھ والی اس کو اپنی چادر سے ایک حصہ اوڑھادے۔(الصحیح لبخاری ج ۱ کتاب الصلوۃ باب وجوب الصلاۃ فی الثیاب ص ۸۰ دارطوق النجاہ بیروت)(۳)حکم(۴)منع کرنا