| عورتیں اور مزارات کی حاضری |
متصل مسجد ہے، چار آدمی کرسی پر بٹھا کر مسجد لے جاتے اور لاتے ہیں(۱)۔ میرے نزدیک وہی دو حرف کہ اول گزارش ہوئے کافی تھے، اب قدرے تفصیل کروں۔
قدیم علماء کی طرف سے عورتوں کے لیے زیارت قبور کی ممانعت:
(۱)پہلے گزارش کرچکا کہ عبارات رخصت (۲)میری نظر میں ہیں(۳)۔مگر نظر بحال زمانہ، میرے، نہ میرے بلکہ اکابر متقدمین (۴)کے نزدیک سبیل ممانعت ہی ہے(۵)اور اسی کو اہلِ احتیاط نے اختیار فرمایا۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ منافقین کے باعث عورتوں کو مسجد کریم میں حاضری سے اللہ عزوجل ورسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ممانعت نہ فرمائی۔ بلکہ منافقوں کو تہدید و ترہیب (۶)اور مردوں کو تقدم (۷)عورتوں کو تاخر (۸)کی ترغیب فرمائی۔
(۱)اس عبارت سے جہاں یہ ظاہر ہوا کہ حضرت سخت بیمار تھے وہیں یہ بھی پتا چلا کہ ایسی سخت علالت میں بھی جماعت چھوڑ کر گھر میں تنہا نماز پڑھ لینا گوارا نہ تھا ، جب کہ اتنی شدیدعلالت بلاشبہ ترک جماعت کے لیے عذر ہے۔ حافظ ملت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب مراد آبادی علیہ الرحمۃ (۱۳۱۲ھ /۱۳۹۶ھ)بانی الجماعۃ الاشرفیہ مبارکپور نے اعلیٰ حضرت کی اسی بیماری کا حال بیان کیا کہ '' ایک مسجد لے جانے والا کوئی نہ تھا، جماعت کا وقت ہوگیا۔ طبیعت پریشان، ناچار خود ہی کسی طرح گھسٹتے ہوئے حاضر ہوئے اور باجماعت نماز ادا کی۔''آج صحت و طاقت اور تمام تر سہولت کے باوجود ترکِ نماز اور ترکِ جماعت کے ماحول میں یہ واقعہ ایک عظیم درس عبرت ہے،(واللہ الھادی والموفق ) (۲)اجازت کی عبارتیں(۳)اس جملے سے فاضل بریلوی کے فتویٰ کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ ایسا نہیں کہ انکی نظر میں صرف ممانعت والی عبارتیں تھیں۔ جن عبارتوں سے عورتوں کے لیے زیارت قبور کی اجازت کا استنباط یا ثبوت ہوسکتا ہے وہ بھی سامنے ہیں اور جن دلائل سے ناجائز ہونا ثابت ہوتا ہے وہ بھی سامنے ہیں۔ سب پیش نظر رکھتے ہوئے اکابر علماء کی طرف خود بھی ممانعت ہی کا فیصلہ کیا ۔ اور اسے بھی واضح فرمایا کہ آخر عورتوں کے لیے زیارت قبور کو جانا کیوں جائز نہیں؟ مولیٰ تعالیٰ ہمیں شریعت کی روشنی میں سوچنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(۴)پہلے کے بڑے بڑے علماء (۵)یعنی حکم ممانعت ہی کا ہے(۶)خوف اور ڈر سنانا (۷)آگے ہونا(۸)پیچھے رہنا