Brailvi Books

عورتیں اور مزارات کی حاضری
17 - 53
زیارت قبور اولیاء کو جانا حرام اور فیض الہی لینے والی عورتوں کو باپردہ شریعت کے احکام کو بجالا کر کرنا جائز۔

میں نے مسئلہ اس طرح مُشرّح (۱)بیان کیا ہے، اس کو آپ صحیح سمجھتے ہیں، یا میری سمجھ میں کوئی غلطی ہے مجھے سمجھائیے۔ آپ میرے مربی اور قبلہ و کعبہ حاجات (۲)ہیں۔ خدائے تعالیٰ آپ کو صحتِ کلیہ عاجلہ (۳) عطا فرمائے ، آمین ثم آمین ۔

رقمہ،(۴)حکیم عبدالرحیم عفی عنہ، مدرس اوّل مدرسہ قادریہ ، احمد آباد، گجرات، دکن جمال پور، مسجد کانچ، 

مورخہ ۱۵ رَبیع الاول شریف اور مصطفیٰ میاں کو پاس بٹھا کر اس کا جواب ان سے لکھوا کر میری تسلی کردیجئے۔ میں غلط سمجھا ہوں تو صحیح سمجھائیے اور وہ فتویٰ جو تحفئہ حنفیہ میں عدمِ جواز زیارتِ قبور نساء کے بارے میں ہے ا س کی نقل بھی کروا کر روانہ فرمائیے۔ اس کے دلائل سے بھی واقف ہونا بندہ چاہتا ہے۔
الجواب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مولانا المکرم اکرمکم وعلیکم السّلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔

آپ کی رجسٹری ۱۵ ربیع الاخرشریف کو آئی، میں ۱۲ ربیع الاول شریف کی مجلس پڑھ کر شام ہی سے ایسا علیل ہوا کہ کبھی نہ ہوا تھا۔ میں نے وصیت نامہ لکھوادیا تھا۔ آج تک یہ حالت ہے کہ دروازہ سے
 (۱)تفصیل سے(۲)تربیت کرنے والے اور حاجتوں کے لیے رجوع کی جگہ(۳)مکمل اور جلدی (۴)اسے لکھا
Flag Counter