(۲)اجتماع ساکنین علی غیر حدّہٖ: یعنی دوساکنوں کا الگ الگ کلموں میں جمع ہونا ۔اس کے مندرجہ ذیل چار قاعدے ہیں ۔
(i) حذف کرنا (ii) ضمّہ دینا (iii) فتحہ دینا (iv)کسرہ دینا
(i)حذف کرنا :جب دو ساکن دوکلموں میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلا ساکن حرف مدہ ہواوردوسرے ساکن پر سکون اصلی ہوتو پہلے ساکن (حرف مدّہ) کو گرا کر اس کی حرکت کے موافق اگلے حرف سے ملا کر پڑھیں گے ۔
مثلاً وَ اَقِیمُوْا لْوَزْنَ، اصل میں وَاَقِیْمُوْا اَلْوَزْن تھا
فِی الْاَرْضِاصل میں فِیْ الْاَرْضِ تھا ۔
(ii)ضمّہ دینا: جب دوساکن دوکلموں میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلا ساکن جمع کی میم (ھُمْ ، کُمْ ، تُمْ، ھِمْ )ہو یا واؤ لین جمع ہو اوردوسرا سکون اصلی ہوتو پہلے ساکن کو ضمہ دے کر اگلے ساکن حرف سے ملا کر پڑھیں گے ۔
مثلاً عَلَیْکُمُ الْقِتَال، اصل میں عَلَیْکُمْ اَلْقِتِالُ تھا وَرَاَوُ الْعَذَابَ ، اصل میں وَرَاَوْ اَلْعَذَاب تھا ۔
(iii)فتحہ دینا:جب دو ساکن کلمے میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلاساکن ''ن'' حرف جار ''من''کا ہو یا حروف مقطعات میں سے میم ہو اوردوسرے ساکن پر سکون اصلی ہوتو پہلے ساکن کو فتحہ دے کر اگلے حرف سے ملا کر پڑھیں گے ۔
مثلاً اَلمَّاللہ (الف لامّ مِّیْمَ اللہ) ، مِنَ اللہِ
(iv)کسرہ دینا: جب دوساکن دوکلموں میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلاساکن نہ حرف مدہ نہ جمع کی میم نہ واؤ لین جمع اورنہ ''ن''مِنْ حرف جار کا ہو اورنہ ہی حروف