مقطعات کی میم ہو، یعنی ان سب کے علاوہ کوئی دوسراساکن ہوتو اسے کسرہ دے کر اگلے حرف سے ملا کرپڑھیں گے۔ مثلاً اَمِ اللہ اصل میں اَمْ اَللہُ تھا لِمَنِ ارْتَضٰی
٭نونِ قُطنی
جب تنوین کے بعد کوئی حرفِ ساکن آجائے تو دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے تنوین کے پوشیدہ نون کو اگلے کلمے کے ساتھ( کسرہ کے قانون کے مطابق) ہمیشہ زیردیں گے ۔
نوٹ : قرآن مجید میں علامت کے طور پر عموماً چھوٹاسانون دیا ہوتاہے ۔
مثلا قَدِیْرٌoاَلَّذِیْ ملا کر پڑھنے کی صورت میں قَدِیْرُنِالّذِی ہوگا
مُبِیْنٍ oاُقْتُلُوْا ملا کر پڑھنے کی صورت میں مُبِیْنِنِ اقْتُلُوْا ہوگا۔
سوالات سبق نمبر ۲۲
۱۔ اجتماع ساکنین سے کیا مراد ہے اورقراء حضرات نے اس کے متعلق قوانین کیوں
وضع کیے؟
۲۔ اجتماع ساکنین کی کتنی اقسام ہیں؟
۳۔ اجتماع ساکنین علی حدّہ ٖسے کیا مراد ہے ؟ اس کی کتنی اقسام صورتیں ہوں گی ؟
مثال دے کر واضح کریں۔
۴۔ اجتماع ساکنین علی غیرحدّہٖ کیا ہے ؟ اس کے کتنے قاعدے ہیں ہر قاعدہ مع
امثلہ بیان کریں۔