Brailvi Books

نصاب التجوید
61 - 79
(۷) صلے: اس علامت سے مراد یہ ہے کہ یہاں ملا کر پڑھنا اولیٰ (بہتر)ہے۔ لہذا یہاں ملاکر پڑھنا چاہیے ۔

(۸) ق : اس علامت سے مراد ہے کہ یہاں پر ملا کر پڑھنااولیٰ (بہتر)ہے۔ 

(۹) قِف: یہ علامت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہاں پرٹھہرجاؤ۔لہذا ٹھہر جاناچاہیے۔

(۱۰) سکتہ : یہ سکتہ کی علامت ہے یعنی یہاں پر لمحہ بھر ٹھہرنا چاہیے اس طرح کہ سانس جاری رہے اورآواز رک جائے ۔

(۱۱) وقفہ : اس سے مراد بھی کچھ لمحہ کیلئے ٹھہرنالیاجاتاہے لیکن سکتہ کی نسبت کچھ زیادہ لیکن سانس کاجاری رکھنا ضروری ہے اورآواز کا رک جانا۔ 

(۱۲)لا : کے معنٰی ہیں نہیں ۔ یہ علامت کہیں آیت کے اوپر آتی ہے اورکہیں آیت کے دوران ۔اگر آیت کے درمیان میں یہ علامت آجائے توہر گز نہیں ٹھہریں گے اگرآیت (o)کے اوپر ہوتو یہاں علماء کا اختلاف ہے یعنی بعض کے نزدیک ٹھہرنا چاہیے اوربعض کے نزدیک نہیں ٹھہرنا چاہیے لیکن ٹھہرنے یا نہ ٹھہرنے سے معنٰی میں خلل واقع نہیں ہوتا ۔

الحاصل :'' گول دائرہ (o)م، ط، ج ''ان علامتوں پرٹھہر جانا چاہیے اور''ز،ص،صلے، ق اوروقفہ'' ان جگہوں پر نہ ٹھہرنا ہی بہتر ہے ۔لہذا آیت ''o،م، ط ، ج'' پر رکنے کی عادت بنانی چاہیے دیگر علامات پر بوقت ضرورت قوی کو ضعیف پر ترجیح کی صورت میں اختیار دیا گیا ہے ۔