(ii)فصل : یعنی استعاذہ اورآیت کو جدا کر کے پڑھنا
جیسے
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِoاِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔
یہی بہتر ہے ۔
نوٹ : فصل بہتر ہے کیونکہ استعاذہ قرآء ت کا حصہ ہے ۔جہاں استعاذہ کو آیت سے ملانے میں معنٰی کے اعتبارسے خرابی لازم نہ آتی ہو وہاں وصل جائز ہے اورفصل بہتر ہے اورجہاں خرابی لازم آتی ہو وہاں فصل ضروری ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
ضروری وضاحت : معنٰی کے اعتبار سے خرابی کا مطلب یہ ہے کہ استعاذہ کے ساتھ وصل کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس آیت کے شروع میں اللہ عزوجل کے ذاتی وصفاتی ناموں میں سے کوئی نہ ہو مثلاً
(1) اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی
(2) اَللہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی