Brailvi Books

نصاب التجوید
49 - 79
نوٹ: ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملانے سے کہیں معنوی خرابی لازم نہ آئے جیسے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الشَّیْطٰنُ یَعِدُ کُمُ الْفَقْرَo
اور اگر معنوی خرابی لازم نہ آئے تو یہ صورتیں بھی جائز ہیں۔

اگربسملہ تلاوت کے دوران پڑھی نہ جائے تواسکی دوصورتیں بنیں گی۔

(i)وصل : استعاذہ اورآیت ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا 

    جیسے
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔
(ii)فصل : یعنی استعاذہ اورآیت کو جدا کر کے پڑھنا 

جیسے
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِoاِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔
یہی بہتر ہے ۔

نوٹ : فصل بہتر ہے کیونکہ استعاذہ قرآء ت کا حصہ ہے ۔جہاں استعاذہ کو آیت سے ملانے میں معنٰی کے اعتبارسے خرابی لازم نہ آتی ہو وہاں وصل جائز ہے اورفصل بہتر ہے اورجہاں خرابی لازم آتی ہو وہاں فصل ضروری ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب 

ضروری وضاحت : معنٰی کے اعتبار سے خرابی کا مطلب یہ ہے کہ استعاذہ کے ساتھ وصل کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس آیت کے شروع میں اللہ عزوجل کے ذاتی وصفاتی ناموں میں سے کوئی نہ ہو مثلاً
    (1) اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی

(2) اَللہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی
Flag Counter