اس مثال میں سورج کا نکلنا دن کے پائے جانے کے لئے علت ہے یعنی جب بھی دن ہوگا تو سورج نکلا ہوا ہوگا ۔
۳۔۔۔۔۔۔ مقدم اور تالی دونوں معلول ہوں اور علت کوئی تیسری چیز بنے۔ جیسے
اِنْ کَانَ النَّھَارُ مَوْجَوْدًا فَالْعَالَمُ مُضِییئ
(اگر دن موجود ہوتوعالم روشن ہوگا) ۔
اس مثال میں دن کا موجود ہونااورسارے جہاں کا روشن ہونایہ دونوں معلول ہیں اورعلت تیسری چیزہے اوروہ سورج کا طلوع ہوناہے۔
وہ تعلق جس کی وجہ سے مقدم اورتالی کا سمجھنا ایک دوسرے پر موقوف ہو ۔جیسے ابوۃ (باپ ہونا)بنوۃ (بیٹاہونا)
اِنْ کَانَ زَیْدٌ أَبًا لِبَکْرٍ کَانَ بَکْرٌ اِبْناً لَہٗ
(اگر زید بکر کاباپ ہے توبکر زید کابیٹاہے) ۔
اس مثال میں زید کا باپ ہونا اس پر موقوف ہے کہ بکر اس کا بیٹا ہے اور بکر کا بیٹا ہونا اس پر موقوف ہے کہ زید اس کاباپ ہے اوردونوں میں سے ہر ایک کو سمجھنا دوسرے پر موقوف ہے لہذا اس علاقہ کو تضایف کہیں گے۔