ذات کے اعتبار سے اس کی دوقسمیں ہیں: ۱۔ منفصلہ عنادیہ ۲۔ منفصلہ اتفاقیہ
وہ قضیہ منفصلہ جس کے مقدم اورتالی کی ذات ہی ان کے درمیان جدائی چاہتی ہو۔ جیسے
ھٰذَا العَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ
اس قضیہ میں طاق وجفت ایسے مقدم اور تالی ہیں کہ ان کی ذات ہی جدائی چاہتی ہے کیونکہ کوئی بھی عدد دو حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو وہ طاق ہوتاہے یا جفت اور ایک ہی وقت میں دونوں کا اکٹھے ہونا بھی نا ممکن ہے۔
وہ قضیہ جس کے مقدم اور تالی میں جدائی ذاتی نہ ہو بلکہ اتفاقی ہو۔جیسے
ھٰذَا الرَّجُلُ اِمَّا أَسْوَدُ أَوْکَاتِبٌ
(یہ شخص یاتو کالا ہے یا کاتب ہے )۔