Brailvi Books

نصاب المنطق
100 - 144
سبق نمبر: 37
(۔۔۔۔۔۔قضیہ شرطیہ منفصلہ کی تقسیمات۔۔۔۔۔۔)
    اس کی دوطرح تقسیم کی جاتی ہے:

۱۔ مقدم اورتالی کی ذات کے اعتبار سے    ۲۔ صدق وکذب کے اعتبار سے
۱۔ ذات کے اعتبارسے قضیہ شرطیہ

منفصلہ کی تقسیم
ذات کے اعتبار سے اس کی دوقسمیں ہیں:     ۱۔ منفصلہ عنادیہ     ۲۔ منفصلہ اتفاقیہ
۱۔منفصلہ عنادیہ:
    وہ قضیہ منفصلہ جس کے مقدم اورتالی کی ذات ہی ان کے درمیان جدائی چاہتی ہو۔ جیسے
ھٰذَا العَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ
(یہ عدد جفت ہے یاطاق )۔
وضاحت:
    اس قضیہ میں طاق وجفت ایسے مقدم اور تالی ہیں کہ ان کی ذات ہی جدائی چاہتی ہے کیونکہ کوئی بھی عدد دو حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو وہ طاق ہوتاہے یا جفت اور ایک ہی وقت میں دونوں کا اکٹھے ہونا بھی نا ممکن ہے۔
۲۔منفصلہ اتفاقیہ:
    وہ قضیہ جس کے مقدم اور تالی میں جدائی ذاتی نہ ہو بلکہ اتفاقی ہو۔جیسے
ھٰذَا الرَّجُلُ اِمَّا أَسْوَدُ أَوْکَاتِبٌ
(یہ شخص یاتو کالا ہے یا کاتب ہے )۔
Flag Counter