وہ قضیہ شرطیہ جس میں مقدم اورتالی کے درمیان اتصال کاحکم کسی علاقہ کی وجہ سے ہو۔ جیسے
اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَاالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ
(اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا) ۔
اس مثال میں مقدم اور تالی کے درمیان اتصال کا حکم علیّت کے علاقے کی بنا پر ہے۔ کیونکہ سورج کا طلوع ہونا دن کے موجود ہونے کے لئے علت ہے ۔اگرسورج نہیں نکلے گا تو دن بھی موجود نہیں ہوگاواضح رہے کہ قضیہ شرطیہ کے پہلے جز کو مقدم اور دوسرے کو تالی کہتے ہیں۔
وہ قضیہ شرطیہ جس میں مقدم اورتالی کے درمیان اتصال کا حکم کسی علاقہ کی وجہ سے نہ ہو بلکہ یہ دونوں اتفاقا جمع ہوگئے ہوں ۔جیسے
اِنْ کَانَ الاِنْسَانُ نَاطِقًا فَالْحِمَارُ نَاھِقٌ
(اگر انسان ناطق ہوگاتوگدھا ناہق ہوگا)۔
اس مثال میں گدھے اورانسان کے اندر کوئی ایسا تعلق نہیں کہ انسان کے ناطق