وہ قضیہ شرطیہ ہے جس میں دو چیزوں(مقدم اور تالی) کے درمیان منافات (جدائی) ہونے کا حکم لگایا گیا ہو۔یا دو چیزوں(مقدم اور تالی)کے درمیان سے منافات اور ضدیت(جدائی) کی نفی کردی گئی ہو۔ اول کو ''منفصلہ موجبہ'' اور ثانی کو'' منفصلہ سالبہ'' کہتے ہیں۔
ھٰذَاالشَّیْءُ اِمَّا شَجَرٌ أَوْحَجَرٌ ۔
یہاں اس بات کا حکم ہے کہ شجراورحجر ایک دوسرے کے منافی ہیں یعنی دونوں کے درمیان جدائی ثابت کی گئی ہے۔لہذا یہ شئی یا شجر ہوگی یا حجر۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک شے شجر بھی ہو اور حجر بھی۔
لَیْسَ أَلْبَتَّۃَ اِمَّااَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً أَوْ یَکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا
(ایسا نہیں ہوسکتا کہ یا تو سورج نکلے گایا دن موجود ہوگا) یہاں یہ حکم نہیں کہ سورج کے نکلنے اور دن کے موجود ہونے میں منافات ہے۔ بلکہ ان کے درمیان سے منافات(جدائی) کی نفی کی گئی ہے۔یعنی جب سورج نکلے گا تو دن ضرور ہوگا۔