Brailvi Books

نصاب المنطق
95 - 144
سبق نمبر: 35
(۔۔۔۔۔۔قضیہ شرطیہ کی تقسیم۔۔۔۔۔۔)
     قضیہ شرطیہ کی تین طرح سے تقسیم کی جاتی ہے۔

    ۱۔۔۔۔۔۔ حکم کے اتصال وانفصال کے اعتبار سے۔

    ۲۔۔۔۔۔۔حکم کے تقدیرِ معین پر ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے۔

    ۳۔۔۔۔۔۔ طرفین کی اصل کے اعتبار سے۔
۱۔ حکم کے اتصال وانفصال کے اعتبار سے 

قضیہ شرطیہ کی تقسیم
اس اعتبار سے قضیہ شرطیہ کی دوقسمیں ہیں:     ۱۔ متصلہ        ۲۔منفصلہ
۱۔قضیہ شرطیہ متصلہ:
    وہ قضیہ جس میں ایک قضیہ کے تسلیم کرلینے پر دوسرے قضیہ کے ثبوت یا نفی کا حکم لگایا جائے۔ اگر ثبوت کا حکم ہوتواسے متصلہ موجبہ کہیں گے۔جیسے:
اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ
 (اگرسورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا)اور اگر نفی کا حکم ہوتواسے متصلہ سالبہ کہیں گے جیسے
لَیْسَ أَلْبَتَّۃَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً کَانَ اللَّیْلُ مَوْجُوْدًا
 (ایسا نہیں ہے کہ جب سورج طلوع ہوتو رات موجودہو) ۔
وضاحت:
    اگرپہلی مثال میں
کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً
کو مان لیاجائے تودن کی موجودگی کا حکم
Flag Counter