٭۔۔۔۔۔۔موجبہ کلیہ کا سور ''کل'' اور'' لام استغراق'' ہے جیسے
کلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔
٭۔۔۔۔۔۔موجبہ جزئیہ کا سور''بعض'' اور''واحد'' ہے
بَعْضُ الْحَیَوَان اِنْسَانٌ۔ وَاحِدٌ مِنَ الْجِسْمِ جمَادٌ۔
٭۔۔۔۔۔۔سالبہ کلیہ کا سور'' لاشی'' ''لا واحد ''اور'' نکرہ کا نفی کے تحت آنا ہے''۔ مثلا
لاَشَی مِنَ الاِنْسَانِ بِحَجَرٍ۔ وَلاَ وَاحِدَ مِنَ النَّارِ بِبَارِدٍ۔ مَا مِنْ مَاءٍ اِلاَّ وَہُوَ رَطَبٌ۔
٭۔۔۔۔۔۔سالبہ جزئیہ کا سور'' لیس بعض'' ''بعض لیس'' ہے ۔جیسے
لَیْسَ بَعْضُ الْحَیَوَان بِحِمَارٍ۔بَعْضُ الْفَوَاکِہِ لَیْسَ بِحُلُوٍّ۔
سوال نمبر1:۔موضوع کے کلی اور جزئی ہونے کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی اقسام قلمبند کریں۔
سوال نمبر2:۔''سور'' کی وضاحت کرتے ہوئے محصورات اربعہ کے سور تحریر کریں۔