Brailvi Books

نصاب المنطق
82 - 144
سبق نمبر: 31
موضوع کے کلی یاجزئی ہونے کے اعتبار سے

قضیہ حملیہ کی تقسیم
اس اعتبار سے قضیہ حملیہ کی چارقسمیں ہیں۔    

۱۔ قضیہ شخصیہ     ۲۔ قضیہ طبعیہ     ۳۔ قضیہ محصورہ    ۴۔ قضیہ مہملہ
۱۔ قضیہ شخصیہ:
    وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع جزئی حقیقی یعنی شخص معین ہو جیسے حضور سیدِعالم، نورِ مجسم شفیعِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم غیب بتانے میں بخیل نہیں ہیں اور جیسے
زَیْدٌ قَائِمٌ
اس کو قضیہ مخصوصہ بھی کہتے ہیں۔
تنبیہ:
    جس قضیہ میں موضوع کی جگہ اللہ تعالی کا مقدس نام ذکر کیا جائے اسے قضیہ شخصیہ ہر گز نہیں کہنا چاہے بلکہ اسے قضیہ مقدسہ کہا جائے جیسے:
اَللّہُ اَحَدٌ،اَللّہُ رَبُّنا، الرَّحمنُ عَلَّمَ القُرْانَ۔
۲۔قضیہ طبعیہ:
    وہ قضیہ حملیہ جس کا موضوع کلی ہو اور محمول کا حکم موضوع کی نفسِ حقیقت پر لگایا گیا ہو، جیسے:
أَلاِنْسَانُ نَوْعٌ۔
اس مثال میں نوع ہونے کا حکم انسان کے افراد زید، بکر وغیرہ پر نہیں بلکہ نفسِ حقیقت پر ہے۔
۳۔ قضیہ مہملہ:
    وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو اورمحمول کاحکم موضوع کے افراد پر لگایا گیا ہو
Flag Counter