وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع جزئی حقیقی یعنی شخص معین ہو جیسے حضور سیدِعالم، نورِ مجسم شفیعِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم غیب بتانے میں بخیل نہیں ہیں اور جیسے
اس کو قضیہ مخصوصہ بھی کہتے ہیں۔
جس قضیہ میں موضوع کی جگہ اللہ تعالی کا مقدس نام ذکر کیا جائے اسے قضیہ شخصیہ ہر گز نہیں کہنا چاہے بلکہ اسے قضیہ مقدسہ کہا جائے جیسے:
اَللّہُ اَحَدٌ،اَللّہُ رَبُّنا، الرَّحمنُ عَلَّمَ القُرْانَ۔
وہ قضیہ حملیہ جس کا موضوع کلی ہو اور محمول کا حکم موضوع کی نفسِ حقیقت پر لگایا گیا ہو، جیسے:
اس مثال میں نوع ہونے کا حکم انسان کے افراد زید، بکر وغیرہ پر نہیں بلکہ نفسِ حقیقت پر ہے۔
وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو اورمحمول کاحکم موضوع کے افراد پر لگایا گیا ہو