Brailvi Books

نصاب المنطق
80 - 144
سبق نمبر: 30
حرف سلب کے موضوع ومحمول کا جز بننے یا نہ بننے

کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی تقسیم
    اصل کے اعتبار سے حرف سلب نسبت ایجابی کی نفی کیلئے استعمال ہوتاہے لیکن کبھی کبھی حرف سلب اپنے اصلی معنی سے عدول کرکے موضوع یا محمول یا دونوں کاجز بن جاتاہے اورپورے قضیہ کی نفی نہیں کرتا، حرف سلب کے قضیہ کا جز بننے یا نہ بننے کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی دوقسمیں ہیں۔
۱۔ قضیہ حملیہ معدولہ        ۲۔ قضیہ حملیہ غیر معدولہ
۱۔ قضیہ حملیہ معدولہ:
    وہ قضیہ حملیہ جس میں حرف سلب موضوع یا محمول یا دونوں کا جز بن رہاہو۔ اگر حرف سلب موضوع کا جز بن رہا ہو تو اسے قضیۃ معدولۃالموضوع کہیں گے۔(جیسے
الَّاحَیُّ جَمَادٌ (لاحی جَمَاد
ہے)۔اگر حرف سلب محمول کا جز بن رہا ہو تو اسے قضیۃمعدولۃالمحمول کہیں گے جیسے
زَیْدٌ لاَعَالِمٌ
 (زید لاعالم ہے) اور اگر حرف سلب موضوع ومحمول دونوں کا جز بن رہا ہو تو اس قضیہ کو معدولۃ الطرفین کہیں گے۔ جیسے
اللَّاحَیُّ لاعَالِمٌ
 ( لاحی
Flag Counter